احسن اقبال جی بی کے قومی مجرم ہیں، پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ایک بیان میں تحریک انصاف گلگت بلتستان نے کہا کہ احسن اقبال نے جی بی دشمنی میں غواڑی پاور پراجیکٹ کو ختم کر دیا، تھک نیاٹ پاور پراجیکٹ بھی ختم کیا، جبکہ عطا آباد اور ہینزل پاور پراجیکٹس پرابی کو التواء کا شکار کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے دورہ گلگت اور ان کے کھوکھلے انتخابی نعروں پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ایک بیان میں پارٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ تین سالہ وفاقی نون لیگی حکومت کی گلگت بلتستان دشمنی کا ماسٹر مائنڈ جعلی پروفیسر احسن اقبال ہیں۔ وفاق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد، احسن اقبال کی سربراہی میں وفاقی پلاننگ ڈویژن نے گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کا گلا گھونٹ دیا۔ وفاقی پی ایس ڈی پی میں گلگت بلتستان کا شیئر منجمد کر کے بانی چیئرمین عمران خان کے شروع کردہ 400 ارب مالیت کے جامع ترقیاتی منصوبوں کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج جن منصوبوں کا احسن اقبال بڑے جوش و جذبے سے ذکر کر رہے ہیں، وہ تمام بانی چیئرمین عمران خان کی وفاقی حکومت کے منظور شدہ منصوبے ہیں۔ ان میں تاریخی گلگت شندور روڈ استور ویلی روڈ، شاہراہ نگر اور داریل تانگیر ایکسپریس وے شامل ہیں، جو سب بانی چیئرمین عمران خان کے تاریخی گلگت بلتستان ترقیاتی پلان کا حصہ تھے۔ توانائی کے شعبے میں عطا آباد پاور پراجیکٹ، غواڑی پاور پراجیکٹ، تھک نیاٹ پاور پراجیکٹ اور ہینزل پاور پراجیکٹ بھی تمام بانی چیئرمین عمران خان کے شروع کردہ منصوبے تھے۔
پی ٹی آئی نے انکشاف کیا کہ احسن اقبال نے جی بی دشمنی میں غواڑی پاور پراجیکٹ کو ختم کر دیا، تھک نیاٹ پاور پراجیکٹ بھی ختم کیا، جبکہ عطا آباد اور ہینزل پاور پراجیکٹس پرابی کو التواء کا شکار کر دیا، جس کے سبب آج گلگت بلتستان اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کی موجودہ تاریکیوں کے مرکزی ذمہ دار احسن اقبال اور نون لیگ ہیں۔ احسن اقبال اور نون لیگی وفاقی حکومت کی دشمنی یہاں نہیں رکی، بلکہ گزشتہ ڈھائی سالوں سے گلگت بلتستان کی سالانہ اے ڈی پی کو منجمد کر کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے قلیل وقت میں شروع کیے گئے تین سے چار ارب مالیت کے تاریخی ترقیاتی منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی باقاعدہ سازش کی گئی۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ احسن اقبال عوام گلگت بلتستان کے قومی مجرم ہیں اور انہیں یہ بتانا چاہیے کہ گزشتہ ڈھائی سالوں میں حکومتی ممبران اسمبلی کو ایک بھی نئی اے ڈی پی اسکیم دینے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ پارٹی نے بانی چیئرمین عمران خان کی گلگت بلتستان سے بے لوث محبت کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی وفاقی حکومت کے قلیل عرصے میں، مشکل معاشی حالات اور کورونا وہا کے باوجود، جگلوٹ سکردو روڈ مکمل کروایا، گلگت امراض قلب ہسپتال مکمل کیا اور گلگت کینسر ہسپتال تعمیر کروایا۔
پی ٹی آئی نے انتباہ کیا کہ گزشتہ چار سالہ وفاقی حکومت اور ڈھائی سالہ صوبائی حکومت کے باوجود نون لیگ کے پاس گلگت بلتستان کے لیے ایک بھی بڑا منصوبہ نہیں، سوائے انتظامی، سیاسی اور معاشی استحصال کے۔ نواز شریف کی کوئی سیاسی وقعت نئیں بچی۔ چاہے وفاق کی پوری فوج ظفر کابینہ، مریم نواز بمعہ پنجاب حکومت بھی گلگت بلتستان آجائے تب بھی نون لیگ کا انتخاب جتنا ناممکن ہے، انشاء اللہ آمدہ انتخابات میں کے پی کے کی طرح تمام رکاوٹیں توڑ کر اور فارم 47 چیر کر گلگت بلتستان میں قیدی نمبر 804 کی حکومت قائم ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی چیئرمین عمران خان پاور پراجیکٹ گلگت بلتستان وفاقی حکومت احسن اقبال پی ٹی آئی کہ گزشتہ کر دیا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔