پاکستان اور ترکیہ نے منگل کو تیل و گیس کی تلاش کے لیے 5 مفاہمتی یادداشتیں اور تفویضِ حقوق کی دستاویزات پر دستخط کیے اور معدنیات اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ان دستاویزات پر ترک وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بائرقدار کی سربراہی میں آنے والے وفد کے دورہ پاکستان کے دوران دستخط کیے گئے، جن کی وزیرِ اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیرِ توانائی اویس لغاری سے ملاقاتیں ہوئیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان پیٹرولیم کی تلاش کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی.

ان معاہدوں میں ایسٹرن آف شور انڈس-سی کے لیے تفویض حقوق کی دستاویز، زیارت نارتھ بلاک، سکھپُور-ٹو بلاک، ڈیپ سی بلاک اور آف شور ڈیپ ایف بلاک کے لیے پیٹرولیم کنسیشن معاہدے شامل تھے۔وزیراعظم نے دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر اطمینان کا اظہار کیا۔شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جون 2022 میں باہمی تجارت کو 1.1 ارب ڈالر (2021) سے 3 سال میں بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ 2024 میں یہ تجارت 1.4 ارب ڈالر رہی۔سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی، پیٹرولیم اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ترک پیٹرولیم نے پاکستان میں آف شور اور آن شور دونوں طرح کی تلاش کی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی ہے، جو دوطرفہ توانائی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔وزیراعظم نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کی توانائی مارکیٹ میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت بھی دی اور خطے اور عالمی حالات کی تیز رفتار تبدیلی کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطے کی ضرورت پر زور دیا، دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کا ایک وزارتی وفد جلد ترکیہ کا دورہ کرے گا تاکہ ان شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائرقدار نے میزبانوں کو بتایا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ تیل و گیس کی تلاش، توانائی انفرااسٹرکچر اور معدنیات کے شعبے میں مزید منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان 5 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کے ہدف کے حصول میں توانائی اور معدنیات میں گہرا تعاون کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے رواں سال کے اوائل میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ کانفرنس میں شرکت کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کی وسیع معدنی صلاحیت کو سراہا، انہوں نے کہا کہ ’اسی لیے میں اپنے ساتھ ایک ترک مائننگ کمپنی بھی لایا ہوں۔ یہ ترکیہ کے لیے پاکستان کے ساتھ معدنیت کے شعبے میں داخل ہونے کا ایک سنگِ میل ہے، اور ہم طویل المدتی، باہمی مفید شراکت داری کے منتظر ہیں‘۔ماڑی انرجیز، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کے مینیجنگ ڈائریکٹرز نے اپنے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور ترک ہم منصبوں کے لیے شیل گیس، ٹائٹ گیس، معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کے ذریعے تعاون کے روشن مواقع سے آگاہ کیا۔ترک وفد نے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کو بتایا کہ ترک پیٹرولیم کا دفتر اسلام آباد میں اسی ماہ کھولا جا رہا ہے جس میں 10ترک شہری مقامی عملے کے ساتھ کام کریں گے، دونوں فریقین نے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم کی خریداری کے لیے ایک مشترکہ تجارتی کمپنی قائم کرنے کے تصور کو بھی آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے سرمایہ کاری میں سہولت کاری بڑھانے اور پاکستان-ترکیہ توانائی تعاون کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے اشتراکِ عمل کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ملاقاتوں کے دوران وزیرِ توانائی اویس لغاری نے بھی ترک نجی شعبے کے تجربہ کار اور معتبر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے پہلے مرحلے میں بولی کے عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی. جس کے لیے جلد اظہارِ دلچسپی جاری کیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پر اتفاق کیا دونوں ممالک اور معدنیات کے شعبے میں پاکستان کے کے درمیان ارب ڈالر کی تلاش اور ترک کے لیے

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد