امریکی صدر کا یوکرین کو انتخابات کرانے کا مشورہ، زیلنسکی نے مشروط ہامی بھر لی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ملک میں عام انتخابات کرانے کا مشورہ دیدیا ہے جس کے جواب میں یوکرینی صدر نے سیکورٹی کی ضمانت ملنے پر 2 سے 3 ماہ میں انتخابات کرانے کی ہامی بھر لی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں یوکرین کو مشورہ دیا ہے کہ ملک میں انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی عوام کو اپنے نمائندے چننے کا حق ملنا چاہیے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کو انتخابات نہ کرانے کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ روس کو تنازع میں برتری حاصل ہے اور یوکرین اپنا بڑا حصہ کھو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ساتھ یوکرین پر ’سمجھوتے‘ طے پا گئے، روسی صدر پیوٹن کا انکشاف
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ ان کے مطابق یورپی ممالک جنگ بندی کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے، جس کے باعث امن معاہدہ انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
امریکا کی طرف سے اس دباؤ کے نتیجے میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک میں انتخابات کرانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور دیگر اتحادی سکیورٹی کی ٹھوس ضمانت دیں تو انتخابات آئندہ 60 سے 90 دنوں میں کرائے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یوکرینی صدر کی 5 ماہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں دوسری ملاقات، اس بار کیا ہوا؟
زیلنسکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ امن منصوبے سے متعلق نظرثانی شدہ دستاویز جلد امریکا کو پیش کر دی جائے گی۔
ان کے مطابق یہ نکات لندن میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ طے پائے، جبکہ امریکا یوکرین کے لیے حقیقی سکیورٹی گارنٹی چاہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر زیلنسکی یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر زیلنسکی یوکرین ولادیمیر زیلنسکی انتخابات کرانے صدر ولادیمیر یوکرینی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔