روس کا یوکرین پر تباہ کن حملہ: آٹھ علاقے تاریکی میں ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
یوکرین میں روس کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملوں نے ملک کے توانائی اور ٹرانسپورٹ شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی بندش اور ایٹمی بجلی گھروں کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔
انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق آٹھ یوکرینی علاقوں میں پاور اسٹیشنز متاثر ہوئے جبکہ سخت موسم اور جنگ کے چوتھے سال میں داخل ہونے کے ساتھ روس نے توانائی کے ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روس نے دو دن میں 653 ڈرون اور 51 میزائل داغے، جن میں سے 585 ڈرون اور 30 میزائل مار گرائے گئے۔
حکام کے مطابق چیرنیہیف، زاپوریزژیا، لیو اور دنیپروپیترووسک سمیت متعدد علاقوں میں بجلی اور حرارت پیدا کرنے والے پلانٹس نشانہ بنے۔ جنوبی علاقے اوڈیسا میں 9,500 سے زائد صارفین حرارت اور 34,000 افراد پانی کی فراہمی سے محروم ہیں۔
اوڈیسا کی بندرگاہی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں جس سے انفراسٹرکچر کو نقصان ہوا اور کئی حصے جنریٹرز پر منتقل کر دیے گئے۔
کیف کے قریب ایک ریلوے مرکز بھی حملے کی زد میں آیا جہاں ڈپو اور بوگیاں تباہ ہوئیں۔ یوکرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس امن کی کسی کوشش کا احترام نہیں کر رہا اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔
روس کی وزارت دفاع کے مطابق حملے یوکرین کے مبینہ شہری اہداف پر حملوں کے جواب میں کیے گئے اور ہدف یوکرین کی فوجی صنعت، توانائی ڈھانچہ اور بندرگاہی تنصیبات تھیں۔
دوسری جانب پولینڈ نے بھی صورتحال کے باعث اپنے جنگی طیارے الرٹ پر رکھے تاہم فضائی حدود کی خلاف ورزی رپورٹ نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔