’امریکا میں چاول مت بھیجو‘، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کو نئے ٹیرف کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وہ بھارت سے زرعی درآمدات خصوصاً چاول پر سخت نئے ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں کسانوں کے لیے کثیر ارب ڈالر امدادی منصوبے کے اعلان کے دوران امریکی صدر نے بھارت اور کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو کے دوران اِنہیں بتایا گیا کہ بھارتی چاولوں کی درآمدات سے مقامی کسان بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
اس معاملے پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی درآمدات امریکی کاشتکاروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں اور اِن کی حکومت امریکی کسانوں کو مضبوط کرنے کے لیے ٹیرف کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی کمپنیاں امریکی مارکیٹ میں بڑے برانڈ چلا رہی ہیں اور ضرورت پڑی تو ان پر ٹیرف کے ذریعے فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مارکیٹ میں بھارتی چاولوں کی ’ڈمپنگ‘ برداشت نہیں کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اِن کی حکومت کسانوں کے لیے 12 ارب ڈالر کی نئی امداد فراہم کرے گی جو دوسرے ممالک پر لگائے گئے ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی سے پوری کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والی کھاد پر بھی ممکنہ ٹیرف کا اشارہ دیا ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ کینیڈا سے کھاد کی بڑی مقدار آتی ہے اور اگر حالات یہی رہے تو سخت ٹیرف عائد کرنے میں مجھے ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔