اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کے روز وزارتِ تجارت کی پیش کردہ سمری کی منظوری دے دی، جس کے تحت پرسنل بیگیج اسکیم ختم کر دی گئی ہے، جبکہ رہائش کی منتقلی اور گفٹ اسکیم کے تحت گاڑیاں درآمد کرنے کے لیے شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے رہائش گاہ کی تبدیلی اور تحائف کی اسکیمیں برقرار، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے 1.

28 ارب روپے مالیت کی ضمنی گرانٹ منظور، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں2.56 روپے بڑھے گی۔ای سی سی نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے سات اہم نکات کی منظوری دی ہے۔ ای سی سی نے پٹرول اور ڈیزل پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور ڈیلرز کے مارجن بھی نظرِ ثانی کر دیے، اور سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کی بھی منظوری دے دی۔ سمری کے مطابق، اسٹیک ہولڈرز کے مابین طے پائے گئے معاہدے کی بنیاد پر کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منظوری دی کہ:(i) صرف ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گفٹ اسکیمیں برقرار رکھی جائیں گی۔(ii) استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر لاگو کم از کم سیفٹی، ماحولیاتی معیارات اور ریگولیٹری اقدامات برقرار رکھی گئی اسکیموں کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر بھی لاگو ہوں گے۔ (iii) گاڑیوں کی درآمد کے لیے درکار درمیانی مدت کو تمام اسکیموں کے لیے دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا جائے۔ (iv) ان اسکیموں کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیاں ایک سال تک نان ٹرانسفرایبل (غیر قابلِ فروخت/غیر منتقلی) رہیں گی۔ (v) بیرونِ ملک کم از کم قیام کی مدت کو بڑھا کر تین سال کیا جائے، اور تمام اسکیموں کے لیے کم از کم 850 دن بیرونِ ملک رہائش ضروری ہوگی۔ (vi) ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیم کے تحت یہ شرط لاگو ہوگی کہ گاڑی اسی ملک سے ہونی چاہیے جہاں بھیجنے والا رہتا ہے۔ یہ شرط گفٹ اسکیم پر لاگو نہیں ہوگی۔ (vii) اس کے مطابق ایپینڈکس ایف۔آئی پی او 2022 میں ضروری ترامیم شامل کی جائیں۔ وزارتِ خزانہ کے سرکاری اعلان کے مطابق، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس آج فنانس ڈویژن میں وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ ای سی سی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ مالی سال 2025-26 کے لیے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیا تاکہ بجلی کے شعبے میں مالی پائیداری اور افادیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ای سی سی نے پاور ڈویژن سے، فنانس ڈویژن کے ساتھ ہم آہنگی میں، وسط مدتی منصوبہ تیار کرنے کو کہا تاکہ مالی معاونت کو بتدریج کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی پاور ڈویژن سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ ڈسکوز کے ساتھ ایک فالو اپ میکانزم قائم کرے تاکہ حکومت کے ساتھ کیے گئے اہداف کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ای سی سی نے کلوروفارم کی درآمد پر پابندی کے لیے پیش کی گئی سمری کو بھی منظور کر لیا، کیونکہ یہ زہریلا اور کینسر پیدا کرنے والا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گاڑیوں کی درا مد اسکیموں کے کے ساتھ کے لیے کے تحت

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا