میئر کراچی نے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والے ابراہیم کے لواحقین سے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
لواحقین سے ملاقات کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بطور میئر کراچی میں کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ندامت کا اظہار کر رہا ہوں، بلیم گیم سے آگے نکل کر ذمہ داری لیتا ہوں، الزام تراشی کو پیچھے رکھ کر اوپر والے سے اور ان کے گھر والوں سے معافی چاہتا ہوں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والے ابراہیم کے لواحقین سے معافی مانگ لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق میئر کراچی مرتضٰی وہاب جاں بحق ہونے والے بچے ابراہیم کے گھر پہنچے، لواحقین سے ملاقات کی اور ساتھ ہی واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس موقع پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بطور میئر کراچی میں کامیاب نہیں ہوسکا اس لیے ندامت کا اظہار کر رہا ہوں، بلیم گیم سے آگے نکل کر ذمہ داری لیتا ہوں، الزام تراشی کو پیچھے رکھ کر اوپر والے سے اور ان کے گھر والوں سے معافی چاہتا ہوں۔ میئر کراچی نے کہا کہ معاشرے میں بہتری کے لیے متاثرہ خاندان کی گزارشات پوری کرنے کی کوشش کروں گا، جو کمی کوتاہی ہے ہم چاہتے ہیں آگے نہ ہوں۔
انہوں نے کہا ابراہیم کے خاندان کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، اتنے بڑے نقصان کے باوجود ابراہیم کے دادا بہت شفقت سے پیش آئے، کسی کی بھی ذمہ داری تھی میں اس میں نہیں جانا چاہتا، میں نے صرف ان سے اپنے لیے معافی مانگی ہے، خاندان کے درد پر اللہ سے ان کے لیے صبر مانگتا ہوں، بحیثیت والد متاثرہ خاندان کے درد کے بارے میں سوچ سکتا ہوں۔ اس موقع پر بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے، کچھ افسران کو معطل کیا گیا، مرتضیٰ وہاب کی یقین دہانی پر اطمینان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میئر کراچی لواحقین سے ابراہیم کے سے معافی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔