کراچی:

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے نیپا چورنگی پر کھلے مین ہول میں تین سالہ بچے ابراہیم کی ہلاکت کے واقعے پر معافی مانگتے ہوئے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا۔

باغ ابن قاسم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ میں خود بچوں والا ہوں، ابراہیم کی والدہ کی چیخیں سُن کر بہت تکلیف پہنچی، اب اس واقعے پر کوئی بلیم گیم نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں بطور میئر اعتراف کرتا ہوں کہ ہم اس واقعے کو روک نہیں سکے تاہم مستقبل میں روک تھام کیلیے اس حادثے کو مثال بناکر اقدامات کریں گے۔ میئر کراچی نے کہا کہ میں نے ابراہیم کے اہل خانہ سے معافی مانگی جبکہ اپنی اور انتظامیہ کی جانب سے بھی سب سے معافی مانگتا ہوں۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اس دلخراش واقعے کے بعد وزیراعلیٰ نے اجلاس بلایا اور ہم نے پہلے مرحلے میں چند افسران کو معطل کیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں کراچی کا میئر ہوں اور میری سیاسی جماعت نے مجھے چننا ہے، بہت سارے لوگ اتفاق اور اختلاف کرتے ہیں مگر اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہئے کہ ہم اپنی کوتاہی کی ذمہ داری لیں۔

میئر کراچی نے کہا کہ شہر کے حالات الزام لگانے سے نہیں بلکہ درست فیصلوں سے بہتر ہوں گے، میں کسی جماعت کا نہیں، کراچی کا میئر ہوں، ہم سب کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غم کے اس موقع پر سیاست یا الزام تراشی اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں اس واقعے پر بیلم گیم میں نہیں جانا چاہتا اور مکمل ذمہ داری لے رہا ہوں، یہ حقیقت ہے کہ ریڈ لائن کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے، جلد اس حوالے سے تفصیلات بھی پیش کروں گا۔

میئر کراچی نے بتایا کہ شہر میں 2 لاکھ 45 ہزارگٹر کے ڈھکن ہیں، اگر کہیں کھلا مین ہول ہو تو شہری 1334 پر کال کریں اور اگر اقدامات نہ ہو تو میرے علم میں لایا جائے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میئر کراچی نے نے کہا کہ میں واقعے پر

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت کرنیوالے لڑکے کا صاف اور قابلِ شناخت چہرا سامنے آ گیا
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق