کراچی:

نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گرنے والے تین سالہ ابراہیم کی موت نے شوبز انڈسٹری کو بھی سوگوار کر دیا۔

والدین کے ساتھ شاپنگ کے لیے جانے والا ننھا ابراہیم گٹر کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوگیا تھا جس کی لاش پندرہ گھنٹے کے بعد ملی اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین بھی کر دی گئی۔

تاہم شوبز شخصیات بھی ننھے ابراہیم کی موت پر انتہائی افسردہ ہیں اور انتظامیہ و حکمرانوں کی ناہلی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اداکار احسن خان نے ننھے ابراہیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم آپ کو وہ حفاظت نہیں دے سکے جو ہر بچے کا بنیادی حق ہے تمہاری معصومیت، بے بسی ہماری اجتماعی ناکامی کا نشان ہے ابراہیم ہمیں معاف کر دینا۔

فاطمہ آفندی نے انتظامیہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو ای چالان سے کروڑوں روپے مل رہے ہیں کیا ان سے روڈ پر مین ہول کے ڈھکن بھی نہیں لگائے جاسکتے۔‘

ماہرہ خان نے لکھا کہ ’ویڈیو دیکھی جس میں ماں اپنے بچے کے لیے رو رہی ہے، اس حادثے کا ذمہ دار کون ہے؟ ناقابل تصور بے حسی۔‘

سجل علی نے لکھا کہ ’انتہائی افسوسناک اور دل ٹوٹنے والی بات ہے، شرم آنی چاہیے اسے جو بھی اس کا ذمہ دار ہے، کراچی کا ذمہ دار کون؟ اس ناکام نظام کا ذمہ دار کون ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ جو شہر لاکھوں لوگوں کا وزن اٹھاتا ہے بدلے میں اس کی حفاظت میں کچھ بھی نہیں کیا جاتا۔

اس کے علاوہ دیگر شوبز شخصیات نے بھی ننھے ابراہیم کی حادثے میں انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ننھے ابراہیم ابراہیم کی کا ذمہ دار

پڑھیں:

کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔

متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔

کراچی: ڈیفنس میں غیرملکی خاتون سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔

خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔

عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار