دو سال سے سڑکیں بند کرنے والی وکالت نہیں ہورہی جو خوش آئند ہے، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دو سال سے سڑکیں بند کرنے والی وکالت اب نظر نہیں آ رہی اور یہ بات ہمارے لیے خوش آئند ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی نئی بلڈنگ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔تقریب کے مہمانانِ خصوصی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ تھے،جنہوں نے ربن کاٹ کر نئی عمارت کا افتتاح کیا۔تقریب میں وکلاء کی بڑی تعداد موجود رہی جبکہ ممبر جوڈیشل کمیشن احسن بھون،صدر بار واجد گیلانی اور سیکرٹری جنرل منظور ججہ بھی شریک ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے صدر ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے خطاب میں ایف ایٹ سے جی الیون ڈسٹرکٹ کورٹس کی منتقلی کو ڈھونگ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم پر تنقید کرنے والے پہلے دیکھیں آئین میں اب تک کتنی ترامیم ہوئی ہیں، سترہ سال بعد ہمیں یہ عمارت ملی ہے، کوئی ایسا بیان نہ دیا جائے جس سے یہ بلڈنگ ہم سے چھن جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت بن چکی ہے، اب ہمیں کہیں منتقل نہ کیا جائے۔
بار کے سیکرٹری جنرل منظور ججہ نے واضح اعلان کیا کہ وکلا، ججز کی لڑائی میں نہیں پڑیں گے، ججز اپنی لڑائی خود لڑیں۔ 36 ہزار کیسز آئینی عدالت میں منتقل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ عدلیہ میں روٹیشن ہونی چاہیے تاکہ دباؤ کم ہوسکے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں اسلام آباد بار کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ایف ایٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ منتقلی کے وقت وکلاء نے جیل کی سختیاں برداشت کیں، یہ عمارت وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی دلچسپی سے مکمل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی منتقلی کی کوئی ایمرجنسی نہیں فلحال یہ عمارت کہیں نہیں جا رہی، اگر کبھی فیصلہ ہوا تو بار ایسوسی ایشن کی عمارت وکلاء کے پاس ہی رہے گی۔ایف ایٹ والا واقعہ نہیں دہرایا جائے گا کہ راتوں رات مشینری پہنچ جائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے ساتھ وکلاء کے چیمبرز نہ ہونے پر تشویش ہے۔انہوں نے مزید کہا آپ اس عمارت کو انجوائے کریں، ریلیکس کریں۔ ابھی شفٹنگ کی باتیں نہ کریں، محسن نقوی نے ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ امید ہے آئندہ بھی نہیں کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خطاب میں کہا کہ وکلاء کی حقیقی نمائندگی اعظم نذیر تارڑ ہی کرتے ہیں، ہم ہمیشہ وکلاء کے ساتھ ہیں اور آپ ہی کے ساتھ رہیں گے، دو سال سے سڑکیں بند کرنے والی وکالت اب نظر نہیں آ رہی یہ خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جی الیون خودکش حملے میں حملہ آور اگر اندر داخل ہوتا تو نقصان بہت زیادہ ہوتا۔ وزیر داخلہ نے وکلاء کا مطالبہ پورے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا اعظم نذیر تارڑ کی پارٹی ہے مسلم لیگ ن اور میری پارٹی کے چیئرمین ہیں احسن بھون ہیں، جی الیون کے حوالے سے آپ نے جو بات کی ہے، مجھے میرے چیئرمین نے صرف آرڈر کرنا ہے،انکا اشارہ آگیا ہے تو ہم کل سے ہی چیزوں کو پراسیس کر دیں گے، ہم بھی دھڑے والے لوگ ہیں اور ہمارا دھڑا احسن بھون والا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد ہائیکورٹ انہوں نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ وفاقی وزیر
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔