وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
علی رامے : وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صوبائی وزیرِ ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان سے اہم ملاقات کی، ملاقات میں ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اصلاحات اور راولپنڈی تا اسلام آباد میٹرو بس سروس کی بہتری سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ملاقات میں میٹرو بس سروس کو مزید فعال بنانے، اسٹیشنز کی حالت بہتر کرنے اور سروس کا روٹ بڑھانے کے مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں، میٹرو بس سروس کی بہتری کے لیے مشترکہ کوآرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
ادھار پیسے لے کر بیرون ملک جانیوالے پاکستانی ویٹ لفٹر نے گولڈ میڈل جیت لیا
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کے دوران کہا کہ روزانہ ہزاروں مسافر راولپنڈی تا اسلام آباد میٹرو بس سروس استعمال کرتے ہیں، اس لیے اس کی بہتری ناگزیر ہے۔
ملاقات میں عوامی سہولت اور سموگ میں کمی کے لیے الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی بار الیکٹرک بسوں کا اجرا کیا گیا ہے اور ای بسوں کے دائرہ کار میں بتدریج توسیع کی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے پنجاب کے ٹرانسپورٹ شعبے میں جاری اصلاحات اور بہتری کے اقدامات سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔
اپنی چھت اپنا گھر پروگرام میں بلاسود قرضوں کے اجرا کی رفتار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔