data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ملیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ اگر کراچی کو وفاقی علاقہ نہیں بنایا جاتا تو ایم کیو ایم نئے صوبوں کا مطالبہ کرے گی۔ ان کے مطابق اگر کراچی انتظامی بنیادوں پر تقسیم ہوسکتا ہے تو سندھ بھی ہوسکتا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی کے فنڈز اسی شہر کے لوگوں کا حق ہیں اور ان کی حفاظت و نگرانی ہماری ذمہ داری ہے۔ ’’حق جتانا نہیں، حق دلوانا ہمارا کام ہے۔‘‘

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے خطاب میں کہا کہ وہ ایک نظریاتی ایم کیو ایم تشکیل دے رہے ہیں اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کون ہے۔ انہوں نے گھر بیٹھے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور پارٹی کا ساتھ دیں۔

اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر کراچی میں چھ ڈسٹرکٹ بن سکتے ہیں تو سندھ میں بھی چھ انتظامی ڈویژن قائم کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کارکن ہیں، کسی کو غیر ضروری طور پر لیڈر نہ بننے دیں، شخصیت پرستی سے گریز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلا سال آپ کا ہے—اگر آپ نے خود کو نہ بدلا تو وقت آپ کو بدل دے گا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟