ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کو وفاقی علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ملیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا کہ اگر کراچی کو وفاقی علاقہ نہیں بنایا جاتا تو ایم کیو ایم نئے صوبوں کا مطالبہ کرے گی۔ ان کے مطابق اگر کراچی انتظامی بنیادوں پر تقسیم ہوسکتا ہے تو سندھ بھی ہوسکتا ہے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ کراچی کے فنڈز اسی شہر کے لوگوں کا حق ہیں اور ان کی حفاظت و نگرانی ہماری ذمہ داری ہے۔ ’’حق جتانا نہیں، حق دلوانا ہمارا کام ہے۔‘‘
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے خطاب میں کہا کہ وہ ایک نظریاتی ایم کیو ایم تشکیل دے رہے ہیں اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کون ہے۔ انہوں نے گھر بیٹھے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور پارٹی کا ساتھ دیں۔
اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر کراچی میں چھ ڈسٹرکٹ بن سکتے ہیں تو سندھ میں بھی چھ انتظامی ڈویژن قائم کیے جانے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کارکن ہیں، کسی کو غیر ضروری طور پر لیڈر نہ بننے دیں، شخصیت پرستی سے گریز کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلا سال آپ کا ہے—اگر آپ نے خود کو نہ بدلا تو وقت آپ کو بدل دے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔