data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ نیپا کے قریب جس مین ہول میں بچہ گرا، وہ سیوریج نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا۔

انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچے کے والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، مگر بدقسمتی سے اس واقعے کو رات ہی سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے کہ کس نے مشینری سے متعلق پابندی لگائی اور اگر کوئی ذمہ دار ثابت ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

Webان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کورز لگائے گئے ہیں اور شہر کے وسط میں ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے پاس مین ہول کے کھلے ہونے کی بھی انکوائری کی جائے گی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ واقعے پر سیاست کرنا افسوسناک ہے۔ واٹر کارپوریشن کو اس متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم اشتعال انگیز بیانات مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برساتی نالے کی ذمہ داری ٹاؤن اور کے ایم سی دونوں کی ہے، اور معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات ہوں گی۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اس علاقے کے ٹاؤن چیئرمین کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، اور اگر وہ ذمہ داری جماعت اسلامی پر ڈالیں تو لوگ ناراض ہوں گے، مگر وہ منافقت کو بے نقاب کرنے سے نہیں ہٹیں گے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی