مسلم لیگ ق کے رہنما وزیر محمد اسحاق کا سکردو حلقہ 4 روندو سے باقاعدہ الیکشن لڑنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز

سکردو (نمائندہ خصوصی)پاکستان مسلم لیگ ق کے سینئر نائب صدر گلگت بلتستان وزیر محمد اسحاق نے سکردو حلقہ 4 روندو سے باقاعدہ الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ۔اپنے ایک بیان میں میں وزیر اسحاق نے کہا کہ انشااللہ ہماری پارٹی کی قیادت گلگت بلتستان بلخصوص روندو کی محرومیاں کا ازالہ کریگی ۔ہماری اولین ترجیحات میں بے روز گار نوجوان کو روز گار بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور روندو میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھانا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی جب برسر اقتدار تھی ہم نے گلگت بلتستان میں میگا پراجیکٹس کا قیام عمل میں لایا ۔جن میں سر فہرست پر kiu یونیورسٹی سدپارہ ڈیم بجلی گھروں کا قیام سمیت گلگت بلتستان اسمبلی کا قیام شامل تھا۔اس کے بعد جب ہماری پارٹی کولیشن پی پی پی کے ساتھ رہی اس دوران ہماری پارٹی نے گلگت بلتستان میں

ریسکیو کا قیام اور یوٹلٹی اسٹورز کا جال بچھا دیا گیا جس سے آج بھی گلگت بلتستان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں ۔اگر عوام اس الیکشن میں بھی ہمیں موقع دیتی ہے تو انشاء اللہ ہم سابقہ پراجیکٹس سے زیادہ میگا پراجیکٹس لائے گئے ۔ہماری کوشیش ہوگی کہ ہم عوام کی امیدوں پر پورا اترے ۔کولیشن کے حوالے سے سوال پر وزیر اسحاق کا کہنا تھا کہ کولیشن اگر ہو بھی جاتا ہے تو وہ پارٹی قائدین طے کریں گے کہ کولیشن ن لیگ سے کرنا ہے یا پی پی کے ساتھ ۔ہماری اپنی ترجیحات الکشن میں بھر پور حصہ لینا ہے ۔اور عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے پچھلی دفعہ بھی ہماری پارٹی نے گلگت بلتستان کے سولہ حلقوں سے الکشن لڑا اور ہماری پارٹی کے امیدوار نے ڈٹ کر گلگت بلتستان میں تگھڑی اپوزیشن کی انشا اللہ عوام ہماری خدمات کا اس سال صلہ دینگے ۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کی برطانیہ کو شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست حکومت کی برطانیہ کو شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی درخواست مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی پاکستان اپنی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کیلئے تیار ہے، وزیراعظم پاکستان کا دو ماہ بعد اقوام متحدہ کی امداد کے لیے افغانستان کی سرحد کھولنے کا فیصلہ وزیر خزانہ کی سربراہی میں این ایف سی کا 11 واں اجلاس، مالی صورتحال پر بریفنگ این سی سی آئی اے کیس: سلمان اعوان اور صارم علی کی ضمانت مسترد، دونوں ملزمان گرفتار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا