data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے بلدیاتی نظام کے کالے قانون کے خلاف 7 دسمبر کو صوبے بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پنجاب میں احتجاج سے بدل دو نظام ملک گیر پرامن مزاحمتی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا۔ عوام کا مزید استحصال برداشت نہیں، حکمرانوں کو قوم کا حق دینا پڑے گا۔ مقامی حکومتوں کے قانون کے خلاف پنجاب کے تمام بڑے شہروں میں مظاہرے ہوں گے ، عدالت بھی جائیں گے۔نائب امیر لیاقت بلوچ ، سیکرٹری جنرل امیرالعظیم ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم ، امیر پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر ،امیر لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ ،امیر راولپنڈی سید عارف شیرازی، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، جنرل سیکرٹری پنجاب وسطی ڈاکٹر بابر رشید، جنرل سیکرٹری پنجاب شمالی اقبال خان اور جنرل سیکرٹری پنجاب جنوبی ثنا اللہ سرائی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ پریس کانفرنس سے قبل امیر جماعت اسلامی کی زیرصدارت تمام قائدین کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں تحریک کا مرحلہ وار لائحہ عمل طے کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اجتماع عام کے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق بدل دو نظام تحریک کے تحت عوامی ریفرنڈم ، دستخطی مہم ، دھرنے ، اسمبلیوں کے گھیراؤ سمیت احتجاج کے تمام پرامن ذرائع استعمال ہوں گے۔ جماعت اسلامی آئین و قانون کی بالادستی، حقیقی جمہوری نظام کا قیام اور متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات چاہتی ہے۔امن و امان کی ابتر صورتحال ، تعلیمی بحران کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ جماعت اسلامی صوبائی قیادت مسائل کی نشاندہی کرے گی جس پر صوبوں میں احتجاج ہوگا۔ کرپشن، امریکی و آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف مظاہرے ہوں گے، غزہ کی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے، فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے۔ افغانستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فارم47 کی اسمبلی نے مقامی حکومتوں کے جس قانون کو پاس کیا ہے اس سے عوامی نمائندگی کا حق مکمل طور پر سلب کرلیا گیا، افسر شاہی فیصلے کرے گی، انہوں نے سوال کیا کہ کس جمہوری نظام میں غیر جماعتی انتخابات ہوتے ہیں؟ ہارس ٹریڈنگ کے راستے کھول دیے گئے ، شریف خاندان اقتدار کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے، جماعت اسلامی تمام صوبوں میں بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں تحریک چلائے گی، پنجاب کے قانون کو فوری طور پر عدالت میں بھی چیلنج کررہے ہیں۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ اجتماع عام کی بے مثال کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، لاکھوں لوگوں نے مینار پاکستان پر اکٹھے ہوکر فرسودہ نظام کے خلاف بے زاری کا اظہار کیا۔ عالمی وفود نے اجتماع عام میں شرکت کی اور دنیا میں رائج استحصالی ، ظالمانہ اور سرمایہ دارانہ کے خلاف آواز اٹھائی اور اسلام کے عادلانہ نظام کو بہترین متبادل کے طور پر پیش کیا۔ اجتماع عام کی کامیابی سے جماعت اسلامی نے ثابت کیا کہ یہ نہ صرف ایک قومی جماعت ہے بلکہ عالمی وژن کی حامل ایک منظم نظریاتی تحریک ہے۔صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ نوآبادیاتی دور کا حربہ اور آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ جماعت اسلامی آئین کے مطابق پرامن احتجاج کرنے کا حق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کا خاندان خود اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے اقتدار کے ایوانوں میں آیا ۔ نواز شریف نے گزشتہ انتخاب میں کامیابی کے لیے مقتدرہ کے دیے گئے 70 ہزار ووٹ قبول کیے۔

لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے حافظ نعیم نے کہا کہ پنجاب کے کے خلاف

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن