آئل ریفائنریز کے ذمہ واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ‘آصف جان
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی آصف جان صدیقی سے ملکی معروف آئل ریفائنریز کے اعلیٰ سطحی وفد نے کے ڈی اے کے مرکزی دفتر سوک سینٹر میں ملاقات کی۔ وفد میں ندیم میمن پاکستان ریفائنری، ریحان شفیق نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، فہیم صدیقی نیشنل ریفائنری لمیٹڈ، شاہ نواز خان جمالی منیجر لیگل این۔آر۔ایل اور رضوان صدیقی لینڈ پارکوشامل تھے۔ ملاقات کے دوران ڈی جی کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے کہا کہ اس نشست کا مقصد سرکاری اداروں کے باہمی تعاون کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانا ہے تاکہ ملکی ترقی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ کاوشوں کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ آپ اور ہم دونوں سرکاری ادارے ہیں، ہمارا اصل ہدف باہمی تعاون کو مستحکم بنانا اور بہترین نتائج یقینی بنانا ہے۔ ڈی جی کے ڈی اے نے وفد پر زور دیا کہ آئل ریفائنریز کے ذمہ واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ادارہ ترقیات کراچی مالی طور پر مزید مستحکم ہو سکے اور اپنی ذمہ داریوں خصوصاً ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگیوں کو بروقت انجام دے سکے۔ اس سلسلے میں ڈی جی کے ڈی اے نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے جو واجبات و ادائیگیوں سے متعلق اور آئل ریفائنریز کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئل ریفائنریز کے ڈی اے
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔