ہراسانی مخالف قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے‘مقررین
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) خواتین کے خلاف ہراسانی کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن پاکستان (ایچ بی ڈبلیو ڈبلیو بی ) کے زیراہتمام سیمینار کراچی پریس کلب میں منعقد ہوا، جس کی صدارت فیڈریشن کی مرکزی جنرل سیکرٹری زہرا خان کر رہی تھیں۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں معروف صحافی اور وومن رائٹس ایکٹوسٹ مہناز رحمان،پروفیسر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن اور ڈائریکٹر سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ ڈاکٹر لبنیٰ ناز ، چیئر پرسن پاکستان ویمن فاؤنڈیشن فار پیس نرگس رحمان ، ڈاکٹر مومل، اقصیٰ کنول ، میمن نسا سائرہ فیڑو، پروین بانو اور دیگر شامل تھیں۔مقررین نے کہا کہ تقریباً پچاسی فیصد خواتین مزدور کام کی جگہ پر ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، خاص طور پر فیکٹریوں اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 90 فیصد گھریلو اور غیر رسمی مزدور خواتین مختلف اقسام کی ہراسانی کا سامنا کرتی ہیں، مگر بدقسمتی سے شکایات درج کروانے اور انصاف کے حصول کے لیے ان کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس موقع پر مطالبات پیش کیے گئے کہ تمام شعبوں بشمول کھیت اور غیر رسمی شعبے میں ہراسانی مخالف قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ خواتین خصوصاً مزدور خواتین کے لیے آسان، محفوظ اور بے خوف شکایات درج کروانے کا نظام قائم کیا جائے۔ پاکستان آئی ایل او کنونشن 190 کی فی الفور توثیق کرے اور موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے۔خواتین مزدوروں کو مناسب اجرت اور سماجی تحفظ کے اداروں سے رجسٹر کیا جائے۔ آزادی اظہار سمیت تمام جمہوری آزادیوں کو بحال کیا جائے اور پیکا جیسے کالا قانون واپس لیا جائے۔ کام کی جگہوں پر ہراسانی کے خلاف کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ عورتوں کے خلاف تمام امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ تمام سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے۔ ڈیجیٹل ہراساگی کے مکمل روک تھام کے لیے مضبوظ اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ کم عمری کی شادی کو سندھ کی طرح تمام صوبوں میں غیرقانونی قرار دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جائے
پڑھیں:
5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
وزیراعلیٰ پنجاب(chief minister punjab) کی ہدایات پر تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں؛ ترجمان پی ڈی ایم اے
پنجاب کے میدانی اور بالائی علاقوں میں چند روز سے جاری شدید گرمی کے بعد اب بیشتر اضلاع میں طوفانی ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی اہم پیشگوئی جاری کی ہے
بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ و گردونواح، لاہور، اوکاڑہ، بھکر اور لیہ میں بارشوں کا امکان ہےْ
جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے خراب موسم کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ شہری آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کے اندر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات یا درختوں تلے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔
کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور سنبھال سمیت تمام تر پیشگی اقدامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں، مری، گلیات اور شمالی علاقہ جات کے سفر پر روانہ ہونے والے سیاح موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مزید پڑھیں:شہری پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں
کسی بھی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔