وزیراعلی پنجاب کے ’’سیف پنجاب‘‘وژن پر عملدرآمد شروع
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
وزیراعلی پنجاب کے ’’سیف پنجاب‘‘وژن پر عملدرآمد کیلئے محکمہ داخلہ نے پنجاب بھر میں تمام اداروں اور عوام کو’’پارٹنر اِن پیس‘‘بننے کی دعوت دے دی۔ وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے امن و امان کے قیام کے حوالے سے اہم مراسلہ جاری کیا ہے جس میں درج ہے کہ ’’سیف پنجاب‘‘وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اتحاد، ذمہ داری اور عوامی شراکت داری ضروری ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مراسلے میں درج ہے کہ حکومت پنجاب صوبے میں امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے فروغ کیلئے ہمہ وقت متحرک ہے اور کسی بھی فرد یا تنظیم کو کسی صورت تشدد، قانون شکنی یا ایسے کسی اقدام کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔ محکمہ داخلہ نے سکیورٹی کے حوالے سے مفید تجاویز دینے کیلئے خصوصی واٹس ایپ نمبر 03114340000 جاری کیا ہے جس پر شہری امن عامہ میں بہتری بارے قیمتی تجاویز تحریری طور پر بھجوا سکتے ہیں۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت پنجاب شہریوں کی مفید سفارشات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور انہیں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شہری جرائم کی اطلاع، مجرمان کی نشاندہی، مشکوک سرگرمی یا ایمرجنسی کی صورت میں پولیس ھیلپ لائن 15 پر ہی رابطہ کریں۔ مراسلے میں درج ہے کہ صوبے کے پرامن شہریوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو مسلسل الرٹ رہنے اور صوبہ بھر میں تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عوامی اور مذہبی مقامات پر سخت نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ داخلہ کی جاری کردہ سکیورٹی ہدایات اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ بروقت سکیورٹی آڈٹ سے ممکنہ واقعات کی پیشگی روک تھام ممکن ہے۔ مراسلے میں تاجر برادری، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور صنعتی اداروں کو قوانین پر عملدرآمد میں معاونت کا کہا گیا ہے جبکہ سول ڈیفنس رضاکاروں کو صوبہ بھر میں انتظامیہ کی امداد کیلئے فرنٹ لائن سولجرز کا درجہ دیا گیا ہے۔ مراسلے میں درج ہے کہ قیام امن کے عظیم تر مقصد کے حصول کیلئے تمام ادارے باہمی رابطہ اور ٹھوس تعاون یقینی بنائیں۔ اسی طرح قیام امن کیلئے پنجاب سیف سٹیز کے جدید نظام سے موثر نگرانی کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مراسلے میں درج ہے کہ اجتماعی سکیورٹی ماڈل اور عوامی شعور کی بیداری معاشرتی ہم آہنگی کیلئے کلیدی اہمیت کی حامل ہے اور پرامن اور ہم آہنگ معاشرے کے قیام کیلئے قوانین پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے اہم مراسلہ آئی جی پنجاب، تمام انتظامی سیکرٹریز اور پنجاب میں وفاقی حکومت کے تمام اداروں کے سربراہان کو جاری کیا۔ تمام ڈویژنل کمشنرز، سی سی پی او لاہور، ڈپٹی کمشنرز، سی پی اوز اور آر پی اوز کو بھی مراسلہ جاری کیا گیا۔ پنجاب میں تمام صوبائی سرکاری، خود مختار اور لوکل گورنمنٹ اداروں کے سربراہان، تمام سرکاری و نجی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کے پرنسپل، ریکٹرز اور وائس چانسلرز کو بھی مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے پنجاب کے تمام چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور کو بھی پارٹنر ان پیس بننے کیلئے مراسلہ بھجوایا ہے۔ عوامی آگاہی اور مثبت نتائج کیلئے مراسلے کی وسیع تر تشہیر کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مراسلے میں درج ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب محکمہ داخلہ نے پنجاب کے جاری کیا ہدایت کی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔