اختر مینگل کا نام "نو فلائی لسٹ" سے نہ ہٹانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
عدالت نے سماعت کے دوران حکم دیا کہ اگر عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہ ہوا، تو ذمہ دار سرکاری افسران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کا نام نو فلائی لسٹ سے نہ ہٹانے کے معاملے پر عدالت عالیہ بلوچستان میں توہین عدالت کی درخواست کی سماعت آج ہوئی۔ جس میں ساجد ترین ایڈووکیٹ کے مفصل دلائل کے بعد عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ پیر تک اپنے افیڈیویٹس جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے واضح طور پر حکم دیا کہ اگر پیر تک عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہ ہوا، اور سردار اختر مینگل کا نام نو فلائی لسٹ سے خارج نہ کیا گیا، تو دونوں سرکاری افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ سماعت کے دوران آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، جمیل رمضان ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء بھی موجود تھے۔ کیس کی سماعت جسٹس گل حسن ترین اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بنچ نے کی۔ سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی ادارے عدالتی احکامات کا احترام نہیں کریں گے تو پھر یہ صورتحال جنگل کے قانون کی سی لگنے لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے اندر اور باہر ہر صورت میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اس طرح کے اقدامات سے سیاسی قیادت کو ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں دبایا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: توہین عدالت کی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔