امن پہلی ترجیح ، قبائلی اضلاع کو حقوق دلانےکی کوششیں جاری ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں امن کی بحالی کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات بائزئی ضلع مہمند کے عمائدین کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہی ۔
وفد نے وزیراعلیٰ سے گفتگو میں کہا کہ سہیل آفریدی پورے قبائلی علاقے کا فخر ہیں، اور ان کا وزیراعلیٰ بننا تمام ضم شدہ اضلاع کے لیے اعزاز ہے۔ عمائدین نے یقین دہانی کرائی کہ وہ امن کے قیام اور صوبائی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قبائلی عمائدین کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امن سب سے بڑا مسئلہ ہے اور حکومت کی اولین ترجیح بھی یہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی میں خیبرپختونخوا گرینڈ امن جرگہ کامیابی سے منعقد کیا گیا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے وقت 10 سال کے لیے 1000 ارب روپے دینے کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، جبکہ صوبائی حکومت کے اربوں روپے کے بقایا جات بھی وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کو ان کے حقوق دلانے کی کوششیں جاری ہیں، اور ضم اضلاع میں یونیورسٹی کے علاوہ میڈیکل اور نرسنگ کالجز بھی قائم کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔