Jasarat News:
2026-07-24@04:20:47 GMT

27 ویں ترمیم: اتنی جھنجھناہٹ کیوں

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

’’سیلف میڈ بنو‘‘ کی نصیحت سنتے عمر گزاردی لیکن سوائے اپنی مٹی خراب کرنے، معلمی اور کالم لکھنے کے ٹوپی میں کوئی کلغی نہ سجا سکے۔ اگر کسی کو بزعم خود عہدوں کی فیکٹری لگاتے، عہدے تراشتے اور وصولتے دیکھا تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔ پہلے اعزاز اور عہدے دعائوں کا نتیجہ ہوتے تھے اب ان کے لیے زور لگانا پڑتا ہے۔ آکاش دیوتا مہر ثبت نہ کرے تو پارلیمان کے ذریعے عطا کروانے کا اہتمام کرلیا جاتا ہے۔

جس طرح کھانے کی سب خرابیوں کی وجہ مرچ کی کمی اور زیادتی باور کرائی جاتی ہے اسی طرح جمہوریت کی خامیوں کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے بے محابا، متواتر اور مسلسل ترامیم۔ لیکن یہی ترامیم حکومتوں اور جرنیلوں کے لیے چاندنی راتوں کا سماں پیدا کردیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آئین میں ترامیم ہوسکتی ہیں، ترامیم کی جاسکتی ہیں، تو کون ہے جو طاقت رکھتے ہوئے اس طرف منہ اٹھائے نہ چلا آئے؟؟ 27 ویں ترمیم نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکے آنگن میں جو ستارے جگمگائے ہیں ان کی تفصیل میں کتنا ہی کسرِ نفسی سے کام لیا جائے پھر بھی شب بھر ایک ہی نام کا چرچا رہتا ہے۔ عاصم منیر

٭ فیلڈ مارشل… جنرل عاصم منیر۔۔ پانچ ستارہ عہدہ، جسے آئینی تحفظ حاصل ہے۔

٭ وہ پاک آرمی کے سربراہ ہوں گے جس سے مراد ہے چیف آف آرمی اسٹاف۔

٭ چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) یہ وہ نیا عہدہ ہے جو 27 ویں ترمیم کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف COAS کے عہدے کے ساتھ ساتھ وہ یہ عہدہ بھی سنبھالیں گے۔

٭ وہ تینوں افواج (بری، بحری اور فضا ئی) پر بھی آئینی کمانڈ رکھتے ہیں۔ وہ سب سے اعلیٰ آئینی کمانڈر ہوں گے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔

٭ ستائیسویں ترمیم کے تحت نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کا ایک نیا ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے اور چیف آف ڈیفنس فورسز یعنی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس کمانڈ کی پالیسی، نگرانی اور متعلقہ اعلیٰ تقرریوں میں مشاورتی وسفارشاتی کردار حاصل ہے۔

٭ چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت 5 سال ہے۔ وہ 27 نومبر 2025 سے چارج سنبھالیں گے جو 27 نومبر 2030 کو ختم ہوگی جس میں مزید توسیع کا امکان موجود ہے بشرط یہ کہ حکومت اور قانون اس کی منظوری دیں۔

٭ وہ تا حیات قانونی استثنیٰ کے حقدار ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عبوری یا عام عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے سے کافی حدتک تحفظ حاصل ہوگا۔

٭ انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ بھی پارلیمنٹ میں مواخذے کی طرز (impeachment-like) کی طرح ہوگا۔ یعنی انہیں اس عہدے سے ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت درکار ہوگی۔

٭ بطور فیلڈ مارشل ان کا عہدہ، رینک، مراعات اور یونیفارم کے حقوق مستقل ہوں گے۔

٭ ان کو پوسٹ کمانڈ ڈیوٹیز دی جاسکیں گی یعنی کمانڈ ختم ہونے کے بعد بھی حکومت انہیں ریاستی مفاد کی ذمے داری دے سکتی ہے۔

٭ چونکہ وہ CDF اور نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کی اعلیٰ سطحوں سے منسلک ہوں گے لہٰذا ان کے پاس نہ صرف فیصلہ سازی بلکہ اسٹرٹیجک نیو کلیئر اثاثوں کے حوالے سے بھی کلیدی کردار ہوگا۔

ان تفصیلات میں ’’تا حیات‘‘ پر سب کے بھٹّے لگے ہوئے ہیں حالانکہ پاکستان میں جب جب کوئی بھی جرنیل براہ راست نازل ہوا یا جمہوریت کے پہلو میں کہنیاں مارتا، اسے کنٹرول کرتا، تشریف فرما رہا اس نے شہر آرزو سے واپسی کے تالے کی چابی دریا برد کرنے کو اپنا حق سمجھا ہے۔ کبھی براہ راست اعلان کردیا کبھی اعلان نہیں کیا۔ فرق کچھ نہیں۔ پاکستان میں فوج کے سربراہ ہمیشہ ہی نظام کے سر پر چڑھ کے ناچتے رہے ہیں، جان محفل رہے ہیں۔ اب اگر فیلڈ مارشل اقتدار کے ایوانوں میں آئینی طور پر بہت زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوگئے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فیلڈ مارشل کے آنریری اور اعزازی عہدے کو تاحیات اور باوردی کردیا گیا، ایک آئینی تحفظ فراہم کردیا گیا ہے، اس کی فنکشنل اور آپریشنل شکل اور ڈیوٹی بنادی گئی ہے، اس کو Love اور Hate کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے حقائق کی نظرسے دیکھیے۔ مودی کا آپریشن سیندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بھی حسب موقع جرنیلوں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیرکی سربراہی میں پاک فوج نے وہ کرکے دکھایا ہے جو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا، دنیا حیران ہے اور تسلیم کررہی ہے۔

مئی کی پاک بھارت جنگ اگرچہ دورانیہ کے اعتبار سے مختصر تھی لیکن جنگی اعتبار سے یہ کثیرالجہت تھی۔ اس میں سائبر وارفیئر بھی شامل تھا، اسپیس وارفیئر، الیکٹرونک وار فیئر، میزائل وار فیئر، ڈرون وارفیئر اور انفارمیشن وارفیئر بھی تھا۔ بی بی سی کے ایک پروگرام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے اس جنگ کی منصوبہ بندی مل کر کی تھی۔ دس تاریخ کو جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملہ کیا تو ہماری اس دن 97 مرتبہ باہمی مشاورت ہوئی تھی‘‘۔ یہ بات یقینی ہے کہ مستقبل کی پاک بھارت جنگ اس سے کہیں زیادہ شدید اور وسعت کی حامل ہوگی جس کے لیے موجودہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر کو مزید طاقتور اور مضبوط بنانے، اس کی تنظیم نو کرنے اور مربوط کرنے کی ضرورت تھی۔ آرٹیکل 243 کی ترمیم کے ذریعے تینوں افواج کے درمیان آپریشنل پلاننگ زبردست طریقے سے مربوط کی گئی ہے۔ بھارت کے جنگی ماہرین اس آرزو میں مرے جارہے ہیں ہمارے یہاں کیڑے نکالے جارہے ہیں۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں فوجی جرنیل کی اصل طاقت آئین یا اس کی کسی شق میں نہیں ہے وہ اس کی فوج سے وابستگی، عہدے اور وردی میں ہے۔ 27 ویں ترمیم سے اس حقیقت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہی پاکستان کا اصل حاکم ہوتا تھا اور پاکستان کی تمام سیاست کو کنٹرول کرتا تھا۔ نیول چیف اور ائر چیف کی براہ راست طاقت کچھ نہیں ہوتی تھی تو اب ان سب کو باقاعدہ آئینی طور پرفیلڈ مارشل کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے یعنی اب تینوں مسلح افواج براہ راست ایک ہی کنٹرول میں آگئی ہیں۔ اب فیلڈ مارشل فضائیہ اور بحریہ کے بھی سربراہ ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو محض 27 ویں آئینی ترمیم سے طاقت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ایک سنگین معاشی بحران کے شکار ملک کے لیے انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے جس طرح بہتر تعاون حاصل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بیرونی دنیا میں اپنی افواج کی طاقت کو جس موثر انداز میں پیش کیا ہے جس طرح امریکا کی حمایت انہیں حاصل ہوئی ہے، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہوا ہے اس کے بعد سب فوج سے ہی رابطے کررہے ہیں۔ پاکستان میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ یہ عمران خان کے لوگ اور ان کا سوشل میڈیا سیل ہے جو سب سے بڑھ کر اس ترمیم پر شور کررہے ہیں۔ کیا عمران خان کے دور میں جنرل باجوہ کی ایسی مرکزی اہمیت اور حیثیت نہیں تھی؟ کیا انہیں توسیع نہیں دی گئی تھی؟؟

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان میں ویں ترمیم براہ راست چیف ا ف گیا ہے ہوں گے کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن