27 ویں ترمیم: اتنی جھنجھناہٹ کیوں
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
’’سیلف میڈ بنو‘‘ کی نصیحت سنتے عمر گزاردی لیکن سوائے اپنی مٹی خراب کرنے، معلمی اور کالم لکھنے کے ٹوپی میں کوئی کلغی نہ سجا سکے۔ اگر کسی کو بزعم خود عہدوں کی فیکٹری لگاتے، عہدے تراشتے اور وصولتے دیکھا تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں۔ پہلے اعزاز اور عہدے دعائوں کا نتیجہ ہوتے تھے اب ان کے لیے زور لگانا پڑتا ہے۔ آکاش دیوتا مہر ثبت نہ کرے تو پارلیمان کے ذریعے عطا کروانے کا اہتمام کرلیا جاتا ہے۔
جس طرح کھانے کی سب خرابیوں کی وجہ مرچ کی کمی اور زیادتی باور کرائی جاتی ہے اسی طرح جمہوریت کی خامیوں کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے بے محابا، متواتر اور مسلسل ترامیم۔ لیکن یہی ترامیم حکومتوں اور جرنیلوں کے لیے چاندنی راتوں کا سماں پیدا کردیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب آئین میں ترامیم ہوسکتی ہیں، ترامیم کی جاسکتی ہیں، تو کون ہے جو طاقت رکھتے ہوئے اس طرف منہ اٹھائے نہ چلا آئے؟؟ 27 ویں ترمیم نے فیلڈ مارشل عاصم منیرکے آنگن میں جو ستارے جگمگائے ہیں ان کی تفصیل میں کتنا ہی کسرِ نفسی سے کام لیا جائے پھر بھی شب بھر ایک ہی نام کا چرچا رہتا ہے۔ عاصم منیر
٭ فیلڈ مارشل… جنرل عاصم منیر۔۔ پانچ ستارہ عہدہ، جسے آئینی تحفظ حاصل ہے۔
٭ وہ پاک آرمی کے سربراہ ہوں گے جس سے مراد ہے چیف آف آرمی اسٹاف۔
٭ چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) یہ وہ نیا عہدہ ہے جو 27 ویں ترمیم کے تحت تشکیل دیا گیا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف COAS کے عہدے کے ساتھ ساتھ وہ یہ عہدہ بھی سنبھالیں گے۔
٭ وہ تینوں افواج (بری، بحری اور فضا ئی) پر بھی آئینی کمانڈ رکھتے ہیں۔ وہ سب سے اعلیٰ آئینی کمانڈر ہوں گے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔
٭ ستائیسویں ترمیم کے تحت نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کا ایک نیا ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے اور چیف آف ڈیفنس فورسز یعنی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس کمانڈ کی پالیسی، نگرانی اور متعلقہ اعلیٰ تقرریوں میں مشاورتی وسفارشاتی کردار حاصل ہے۔
٭ چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت 5 سال ہے۔ وہ 27 نومبر 2025 سے چارج سنبھالیں گے جو 27 نومبر 2030 کو ختم ہوگی جس میں مزید توسیع کا امکان موجود ہے بشرط یہ کہ حکومت اور قانون اس کی منظوری دیں۔
٭ وہ تا حیات قانونی استثنیٰ کے حقدار ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عبوری یا عام عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے سے کافی حدتک تحفظ حاصل ہوگا۔
٭ انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ بھی پارلیمنٹ میں مواخذے کی طرز (impeachment-like) کی طرح ہوگا۔ یعنی انہیں اس عہدے سے ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت درکار ہوگی۔
٭ بطور فیلڈ مارشل ان کا عہدہ، رینک، مراعات اور یونیفارم کے حقوق مستقل ہوں گے۔
٭ ان کو پوسٹ کمانڈ ڈیوٹیز دی جاسکیں گی یعنی کمانڈ ختم ہونے کے بعد بھی حکومت انہیں ریاستی مفاد کی ذمے داری دے سکتی ہے۔
٭ چونکہ وہ CDF اور نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کی اعلیٰ سطحوں سے منسلک ہوں گے لہٰذا ان کے پاس نہ صرف فیصلہ سازی بلکہ اسٹرٹیجک نیو کلیئر اثاثوں کے حوالے سے بھی کلیدی کردار ہوگا۔
ان تفصیلات میں ’’تا حیات‘‘ پر سب کے بھٹّے لگے ہوئے ہیں حالانکہ پاکستان میں جب جب کوئی بھی جرنیل براہ راست نازل ہوا یا جمہوریت کے پہلو میں کہنیاں مارتا، اسے کنٹرول کرتا، تشریف فرما رہا اس نے شہر آرزو سے واپسی کے تالے کی چابی دریا برد کرنے کو اپنا حق سمجھا ہے۔ کبھی براہ راست اعلان کردیا کبھی اعلان نہیں کیا۔ فرق کچھ نہیں۔ پاکستان میں فوج کے سربراہ ہمیشہ ہی نظام کے سر پر چڑھ کے ناچتے رہے ہیں، جان محفل رہے ہیں۔ اب اگر فیلڈ مارشل اقتدار کے ایوانوں میں آئینی طور پر بہت زیادہ طاقت ور اور بااثر ہوگئے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فیلڈ مارشل کے آنریری اور اعزازی عہدے کو تاحیات اور باوردی کردیا گیا، ایک آئینی تحفظ فراہم کردیا گیا ہے، اس کی فنکشنل اور آپریشنل شکل اور ڈیوٹی بنادی گئی ہے، اس کو Love اور Hate کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے حقائق کی نظرسے دیکھیے۔ مودی کا آپریشن سیندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بھی حسب موقع جرنیلوں کو نوازا جاتا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیرکی سربراہی میں پاک فوج نے وہ کرکے دکھایا ہے جو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا، دنیا حیران ہے اور تسلیم کررہی ہے۔
مئی کی پاک بھارت جنگ اگرچہ دورانیہ کے اعتبار سے مختصر تھی لیکن جنگی اعتبار سے یہ کثیرالجہت تھی۔ اس میں سائبر وارفیئر بھی شامل تھا، اسپیس وارفیئر، الیکٹرونک وار فیئر، میزائل وار فیئر، ڈرون وارفیئر اور انفارمیشن وارفیئر بھی تھا۔ بی بی سی کے ایک پروگرام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے اس جنگ کی منصوبہ بندی مل کر کی تھی۔ دس تاریخ کو جب بھارت نے پاکستان پر میزائل حملہ کیا تو ہماری اس دن 97 مرتبہ باہمی مشاورت ہوئی تھی‘‘۔ یہ بات یقینی ہے کہ مستقبل کی پاک بھارت جنگ اس سے کہیں زیادہ شدید اور وسعت کی حامل ہوگی جس کے لیے موجودہ کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر کو مزید طاقتور اور مضبوط بنانے، اس کی تنظیم نو کرنے اور مربوط کرنے کی ضرورت تھی۔ آرٹیکل 243 کی ترمیم کے ذریعے تینوں افواج کے درمیان آپریشنل پلاننگ زبردست طریقے سے مربوط کی گئی ہے۔ بھارت کے جنگی ماہرین اس آرزو میں مرے جارہے ہیں ہمارے یہاں کیڑے نکالے جارہے ہیں۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں فوجی جرنیل کی اصل طاقت آئین یا اس کی کسی شق میں نہیں ہے وہ اس کی فوج سے وابستگی، عہدے اور وردی میں ہے۔ 27 ویں ترمیم سے اس حقیقت میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہی پاکستان کا اصل حاکم ہوتا تھا اور پاکستان کی تمام سیاست کو کنٹرول کرتا تھا۔ نیول چیف اور ائر چیف کی براہ راست طاقت کچھ نہیں ہوتی تھی تو اب ان سب کو باقاعدہ آئینی طور پرفیلڈ مارشل کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے یعنی اب تینوں مسلح افواج براہ راست ایک ہی کنٹرول میں آگئی ہیں۔ اب فیلڈ مارشل فضائیہ اور بحریہ کے بھی سربراہ ہوں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو محض 27 ویں آئینی ترمیم سے طاقت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ایک سنگین معاشی بحران کے شکار ملک کے لیے انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے جس طرح بہتر تعاون حاصل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بیرونی دنیا میں اپنی افواج کی طاقت کو جس موثر انداز میں پیش کیا ہے جس طرح امریکا کی حمایت انہیں حاصل ہوئی ہے، سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہوا ہے اس کے بعد سب فوج سے ہی رابطے کررہے ہیں۔ پاکستان میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ یہ عمران خان کے لوگ اور ان کا سوشل میڈیا سیل ہے جو سب سے بڑھ کر اس ترمیم پر شور کررہے ہیں۔ کیا عمران خان کے دور میں جنرل باجوہ کی ایسی مرکزی اہمیت اور حیثیت نہیں تھی؟ کیا انہیں توسیع نہیں دی گئی تھی؟؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان میں ویں ترمیم براہ راست چیف ا ف گیا ہے ہوں گے کے لیے
پڑھیں:
میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔
اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔
Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.
As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.
Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026
میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔
این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔
سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔
ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔
مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔
نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔
اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس