ٹرولنگ کی کبھی حمایت نہیں کی، بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی ٹرولز کے خلاف بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آرمی چیف ہو یا کوئی دوسری شخصیت، کسی کی بھی ٹرولنگ نہیں ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا حصہ نہیں، اب ن لیگ والوں کی ٹرولنگ نہیں کروں گا، شیر افضل مروت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں ہمیشہ ٹرولنگ کا مخالف رہا ہوں، کیوں کہ جمہوریت یہی ہے کہ جب آپ کوئی بات کرتے ہیں تو دوسرے کو بھی اپنی رائے دینے کی اجازت ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، جبکہ صحافیوں کی بھی ٹرولنگ ہو رہی ہے۔
سینیئر صحافی انصار عباسی ان دنوں ٹرولز کے نشانے پر ہیں، اور ان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ کچھ روز قبل سینیئر اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ کو ایک اسٹور میں اہلیہ کے ساتھ ہراساں کیا گیا، جس کی صحافی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا کنٹرول بھی ہو جائے تو اسٹیبلشمنٹ ان سے بات نہیں کرےگی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
اس سے قبل پی ٹی آئی کے باغی رہنما شیر افضل مروت بھی پی ٹی آئی ٹرولز کا نشانہ بن چکے ہیں، جس پر ممبر قومی اسمبلی نے ایسے لوگوں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آرمی چیف بیرسٹر گوہر ٹرولنگ جمہوریت چیئرمین پی ٹی آئی فیلڈ مارشل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف بیرسٹر گوہر ٹرولنگ جمہوریت چیئرمین پی ٹی ا ئی فیلڈ مارشل وی نیوز پی ٹی ا ئی کے خلاف
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔