حریت وفد کی چوہدری یاسین سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ذرائع کے مطابق وفد نے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال، علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظلوم کشمیری عوام کو درپیش شدید مشکلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے کنونیر غلام محمد صفی کی قیادت میں اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق وفد نے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال، علاقے میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظلوم کشمیری عوام کو درپیش شدید مشکلات سے آگاہ کیا۔ حریت وفد نے چوہدری یاسین سے درخواست کی کہ وہ قومی و بین الاقوامی فورمز پر اپنا موثر کردار جاری رکھیں اور عالمی برادری کی توجہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف مبذول کرائیں۔ وفد نے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے تاریخی اور مستقل کردار کو بھی سراہا جو انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے قومی اور عالمی سطح پر ادا کیا ہے۔ حریت وفد نے چوہدری یاسین کو 10 دسمبر 2025ء کو عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر کوٹلی آزاد کشمیر میں ہونے والی ریلی میں شرکت کی دعوت دی۔
چوہدری محمد یاسین نے حریت وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وہ تاریخی نظریہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے لیے ہزار سال تک لڑیں گے، ہر کارکن کے لیے ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جموں و کشمیر کے ان بہادر اور ثابت قدم لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے جنہوں نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی آزادکشمیر ریلی میں بھرپور شرکت کرے گی اور بھارت کو سخت پیغام دے گی کہ پارٹی کسی صورت میں مسئلہ کشمیر پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کشمیری عوام کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے حریت کانفرنس کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت کے بدترین مظالم کے باوجود حریت کبھی ظلم کے آگے نہیں جھکی۔ حریت وفد میں جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد، شیخ عبد المتین، شیخ عبد المجید، شیخ یعقوب، راجہ خادم حسین، محمد اشرف ڈار اور حاجی سلطان بٹ بھی شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کشمیر کے حریت وفد انہوں نے وفد نے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔