انگلینڈ میں ایتھلیٹس کا 48 گھنٹے مسلسل ڈوج بال کھیل کر نیا ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انگلینڈ میں کھیلوں کے شوقین نوجوانوں کے ایک گروپ نے 2 دن تک مسلسل ڈوج بال کھیل کر ایک ایسا سنگ میل عبور کیا ہے جس نے گینیز ورلڈ ریکارڈ میں نئی تاریخ رقم کردی۔
24 ایتھلیٹس پر مشتمل یہ ٹیم مسلسل 48 گھنٹے میدان میں کھیلتی رہی۔ اس دوران نہ کھیل رکا، نہ جذبہ کم ہوا اور نہ ہی کھلاڑیوں کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔ یہ پورا ایونٹ ڈوج سینٹرل کے تعاون سے منعقد ہوا جب کہ میزبانی ہارٹلی پول میورکس ڈوج بال کلب نے کی، جنہوں نے اس میراتھون کو منظم انداز میں انجام تک پہنچایا۔
یہ طویل ترین مقابلہ ہفتے کی صبح 9 بجے شروع ہوا اور اگلے 48 گھنٹوں کے بعد پیر کی صبح ٹھیک 9 بجے اپنے اختتام کو پہنچا۔ میراتھون کے دوران کھلاڑی وقفے وقفے سے پانی، توانائی بخش خوراک اور مختصر آرام لیتے رہے، مگر کھیل مسلسل جاری رہا۔
اس پورے ایونٹ کا مقصد نہ صرف نیا عالمی ریکارڈ بنانا تھا بلکہ یہ بھی دکھانا تھا کہ ڈوج بال جیسے نسبتاً کم معروف کھیل میں بھی کھلاڑی کس قدر صلاحیت، عزم اور برداشت رکھتے ہیں۔ اس دو روزہ میراتھون میں جس مستقل مزاجی سے کھلاڑی میدان میں ڈٹے رہے، اس نے شائقین اور منتظمین دونوں کو حیران کر دیا۔
اس سے قبل یہ ریکارڈ 2012 میں امریکی ریاست ورمونٹ میں کیسلٹن اسٹیٹ کالج کے نام تھا، جنہوں نے 41 گھنٹے، 3 منٹ اور 17 سیکنڈ تک مسلسل ڈوج بال کھیل کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، لیکن اس بار انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے نہ صرف یہ ریکارڈ توڑا بلکہ اس میں نمایاں فرق کے ساتھ نئی حد بھی مقرر کر دی۔
مقابلے میں شامل شرکا کے مطابق یہ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ برداشت، ٹیم ورک اور ذہنی مضبوطی کا امتحان تھا، جسے ہر کھلاڑی نے پوری لگن سے پورا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شاندار کوشش کا مقصد صرف ریکارڈ سازی نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے ایک خیراتی مقصد بھی وابستہ تھا۔ منتظمین کے مطابق اس سرگرمی کے دوران 8 ہزار ڈالر سے زائد رقم جمع ہوئی، جسے مکمل طور پر عطیہ کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈوج بال
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔