سرمد صہبائی کے ساتھ مکالمہ، اکادمی ادبیاتِ پاکستان میں یادگار نشست
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اکادمی ادبیاتِ پاکستان کے معروف سلسلے ’اہلِ قلم سے ملیے‘ کے تحت ممتاز شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فلم ساز اور دانشور سرمد صہبائی کے اعزاز میں ’سرمد صہبائی کے ساتھ مکالمہ‘ کے عنوان سے ایک خصوصی نشست شیخ ایاز کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کے اہلِ قلم نے کثیر تعداد میں شرکت کی، جبکہ میڈیا نے بھی بھرپور کوریج کی۔
تقریب کا آغاز صدر نشینِ اکادمی پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ شاہد مسعود اور اختر عثمان نے مکالمے کا آغاز کرتے ہوئے سرمد صہبائی کی شخصیت اور فن پر اظہارِ خیال کیا اور ان سے مختلف سوالات کیے۔ نظامت کے فرائض منیر فیاض نے انجام دیے، جنھوں نے مہمانِ گرامی کا تعارف بھی پیش کیا اور اہم سوالات کیے۔
مزید پڑھیں: عینی آپا تھیں تو پاکستانی
ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمد صہبائی اپنی شاعری، ڈرامہ نگاری، فلم سازی اور فکری خدمات کے باعث ایک ہمہ جہت اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔ انہوں نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے سرمد صہبائی سے غیر رسمی گفتگو کی دعوت دی اور آغاز میں ان کی معروف غزل ’بناتی ہے نظر تصویرِ آب آہستہ آہستہ‘ کے چند اشعار بھی پیش کیے۔
شاہد مسعود نے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی وی میں 40 سالہ رفاقت کے دوران وہ سرمد صہبائی سے ہمیشہ سیکھتے رہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اُن کے مطابق پروڈیوسر کے طور پر باہمی مسابقت کے باوجود دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم رہی۔
مزید پڑھیں: داستاں سرائے، راجا گدھ اور بانو آپا
اختر عثمان نے سرمد صہبائی کے فن اور شخصیت پر بات کرتے ہوئے ان کی شاعری کے نمایاں خصائص بیان کیے اور ان کی فکری انفرادیت کا اعتراف کیا۔ انہوں نے سرمد صہبائی کو برصغیر کی تہذیبی سطح پر ایک بڑی شخصیت قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے کبھی کسی کی عزتِ نفس کو مجروح نہیں ہونے دیا۔
اپنی گفتگو میں سرمد صہبائی نے کہا کہ ان کی تمام تخلیقات کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں بلکہ خالص تخلیقی قوت کے سہارے وجود میں آئیں۔ وہ کبھی ایک ہی صنف تک محدود نہیں رہے اور آج بھی کچھ نیا سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ شاعری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہماری شاعری یکسانیت کا شکار رہی ہے، جبکہ وہ انفرادیت اور تنوع کے قائل ہیں۔
مزید پڑھیں: ہمارے انورؔ مسعود
تخلیقی عمل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لکھاری اگر ہیئت کو اپنے حواس کا حصہ بنالے تو تخلیق سے بہتر انصاف کر سکتا ہے۔ اسی بنا پر انہیں کبھی اپنی تخلیقات میں صنفی یا اسلوبی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
انہوں نے اپنے استاد ڈاکٹر نذیر احمد کی درویشانہ شخصیت کا ذکر کیا اور پی ٹی وی سے وابستگی کے حوالے سے اپنے تجربات بھی بیان کیے۔ ان کے مطابق پی ٹی وی نے علاقائی ثقافت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: منشا یاد کی یاد میں
پاکستانی زبانوں کی ترویج کے سلسلے میں انہوں نے اکادمی ادبیاتِ پاکستان اور ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کوششوں کو بھی سراہا، خصوصاً ان کے حالیہ دورۂ کوئٹہ و کراچی کا ذکر کیا۔
تقریب کے حاضرین میں کشور ناہید، محمد حمید شاہد، ڈاکٹر نجیبہ عارف، شاہد مسعود، فرخندہ شمیم، حسن عباس رضا، ڈاکٹر صلاح الدین درویش، ڈاکٹر سعدیہ کمال، عمران جہانگیر، رحمت، محبوب ظفر اور دیگر اہلِ قلم شامل تھے۔
انہوں نے سرمد صہبائی کے فن، شخصیت، ادبی سفر، تخلیقی جہات اور نئی نسل کے لیے ان کے پیغامات پر گفتگو کی۔ سامعین کی فرمائش پر سرمد صہبائی نے اپنا منتخب کلام بھی پیش کیا اور خوب داد سمیٹی۔
مزید پڑھیں: سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک
اختتام پر صدر نشینِ اکادمی ڈاکٹر نجیبہ عارف نے سرمد صہبائی کو پھولوں کا تحفہ پیش کیا، جبکہ انہیں خوبصورت پورٹریٹ بطورِ تبرک عنایت کیا۔
یہ یادگار نشست اس احساس کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ سرمد صہبائی نہ صرف عہدِ حاضر کے اہم تخلیق کار ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا مینار ہیں۔
ان کی گفتگو نے ثابت کیا کہ ادب محض اظہار نہیں، بلکہ شعور کی تشکیل اور سماج کی تعمیر کا بنیادی وسیلہ ہے۔ اکادمی ادبیاتِ پاکستان کی یہ محفل مدتوں یاد رکھی جائے گی اور نئی تخلیقات و مکالمات کو جنم دیتی رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’سرمد صہبائی کے ساتھ مکالمہ‘ اختر عثمان اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف سرمد صہبائی شاہد مسعود.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرمد صہبائی کے ساتھ مکالمہ اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف شاہد مسعود ڈاکٹر نجیبہ عارف سرمد صہبائی کے اکادمی ادبیات شاہد مسعود مزید پڑھیں انہوں نے کیا اور کے ساتھ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔