بلوچستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد میں ایک سال کے دوران تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجادی

سنہ 2024 میں مریضوں کی تعداد 2,851 تھی جو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 3,303 تک پہنچ گئی۔ یعنی صرف 12 ماہ کے دوران 452 نئے مریض رجسٹر ہوئے اور اسی عرصے میں 452 اموات بھی رپورٹ ہوئیں۔

سید کنٹرول پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق مرد مریضوں کی تعداد 2,075 سے بڑھ کر 2,362 ہوگئی جبکہ خواتین کی تعداد 600 سے بڑھ کر 707 تک پہنچ گئی۔

صوبے میں خواجہ سرا کمیونٹی کے 90 افراد بھی رجسٹرڈ مریضوں میں شامل ہیں۔ بلوچستان میں ایڈز کے سب سے زیادہ کیسز کوئٹہ میں ریکارڈ ہوئے جہاں مریضوں کی تعداد 2,164 تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیے: ایڈز سے پاک پاکستان کے لیے متحد ہونا ہوگا، ایڈز کے عالمی دن پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

تربت میں 368، حب میں 158، نصیرآباد میں 66 اور لورالائی میں 96 کیسز رپورٹ ہوئے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بیماری صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اضلاع میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔

سرنج کا دوبارہ استعمال ایڈز کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے، ڈاکٹر ہاشم مینگل

ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر ہاشم مینگل کا کہنا ہے کہ ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ منشیات کا انجیکشن کے ذریعے استعمال ہے کیونکہ لوگ اکثر آلودہ سرنجیں شیئر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ہاشم مینگل نے کہا کہ انجیکشن استعمال کرنے والے افراد میں وائرس کی شرح سب سے زیادہ پائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: آپ ڈینگی، ہیپاٹائٹس سی، چیچک اور ایڈز وائرس کو مانتے ہیں، تو پھر۔۔۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات، ماں سے بچے کو وائرس کی منتقلی اور آلودہ آلات کا استعمال بھی بیماری کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک بڑا حصہ اب بھی اس بات سے ناواقف ہے کہ بیماری کیسے منتقل ہوتی ہے، کس طرح اس سے بچا جا سکتا ہے اور کن علامات کے ظاہر ہونے پر فوری ٹیسٹ ضروری ہے۔

ڈاکٹر ہاشم مینگل کے مطابق اگرچہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ باعثِ تشویش ہے لیکن یہ اضافہ محض بیماری کے پھیلاؤ کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ صوبے میں نگرانی بہتر ہوئی ہے اور زیادہ لوگ ٹیسٹنگ اور رجسٹریشن کے لیے سامنے آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ کیوں؟ محکمہ داخلہ نے بتادیا

ان کے مطابق بلوچستان میں لوگوں کا ایڈز ٹیسٹ کروانے کے لیے رضامندی ظاہر کرنا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، کیونکہ ماضی میں لوگ سماجی دباؤ کے باعث تشخیص سے گریز کرتے تھے۔

باقاعدگی سے ادویات لیتے رہنے سے صحت مند زندگی گزاری جاسکتی ہے، ڈاکٹر سحرین نوشیروانی

ایڈز کنٹرول پروگرام بلوچستان کی صوبائی کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر سحرین نوشیروانی کے مطابق ایڈز ایک قابل کنٹرول مرض ہے لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں اس کے بارے میں لوگوں میں شدید غلط فہمیاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ سماجی بدنامی کا خوف ہے جو لوگوں کو ٹیسٹ کروانے، علاج کروانے یا دوسروں کو اپنی صورتحال بتانے سے روکتا ہے۔

ڈاکٹر نوشیروانی نے اس بات پر زور دیا کہ اگر معاشرہ ایڈز کے مریضوں کو قبول کرے اور انہیں ہمدردی اور تعاون فراہم کرے تو نہ صرف مریضوں کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ بیماری کے پھیلاؤ میں بھی کمی آسکتی ہے۔

ڈاکٹر سحرین نوشیروانی نے بتایا کہ ایڈز کی تشخیص کے بعد اگر مریض باقاعدگی سے ادویات لیتے رہیں تو وہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بھی انتہائی کم ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نشتر اسپتال ایڈز کیس، ایم ایس سمیت ذمہ دار عملہ معطل، ڈاکٹرز متاثرہ مریضوں کو جیب سے ہرجانہ ادا کرینگے

ان کے مطابق بلوچستان میں ایچ آئی وی تھراپی مراکز کوئٹہ، تربت اور دیگر 4 اضلاع میں فعال ہیں جہاں مریضوں کو مفت ادویات، ٹیسٹنگ، مشاورت اور آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔

ایسی بیماری سے نپٹنے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صوبے میں ایڈز پر قابو پانا ہے تو آگاہی مہم کو زیادہ منظم اور زمینی سطح پر مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ گاؤں، دیہات اور کمیونٹی سطح پر ایسی سرگرمیاں ضروری ہیں جو لوگوں کو محفوظ رویوں، تشخیص کی اہمیت اور علاج کی دستیابی کے بارے میں آگاہ کریں۔

مزید پڑھیے: کیا پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کا مرض وبائی صورت اختیار کر گیا ہے؟

 ماہرین نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے معاشرے میں جہاں تعلیم اور شعور کی کمی پہلے ہی ایک چیلنج ہے وہیں ایڈز جیسی بیماری سے نمٹنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں اور مقامی برادریوں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان بلوچستان میں ایچ آئی وی کیسز بلوچستان میں ایڈز کیسز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان ڈاکٹر ہاشم مینگل مریضوں کی تعداد بلوچستان میں کے پھیلاؤ کی بیماری کے کے مطابق میں ایڈز ایڈز کے میں ایچ کہا کہ اس بات کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق