پنجاب حکومت خونیں کھیل بسنت منانے پر پھر ڈٹ گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ڈور پھرنے سے جاں بحق ہونے کے واقعہ کے 40روز بعد پنجاب حکومت پھر بسنت منانے پر ڈٹ گئی۔خونی کھیل کے باعث چالیس روز قبل لاہور میں اکیس سالہ نوجوان موت کے گھاٹ اتر گیا ،جاں بحق ہونے کے چالیس روز بعد پنجاب کائٹ فلائینگ آرڈیننس 2025 جاری ہوگیا جس کی کاپی دنیا نیوز سامنے لے آیا ۔کائٹ فلائینگ آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں پتنگ بازی ڈپٹی کمشنرز کی اجازت سے مشروط ہو گئی جب کہ پتنگ سازی اور پتنگ فروخت کے لئے رجسٹریشن کروانا لازمی قرار ہوگا، پتنگ باز تنظیموں کےلئے رجسٹریشن بھی کروانا ہوگی۔آرڈیننس میں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کروانے کے بعد پتنگیں بنانے اور فروخت کرنے کا لائسنس ہوگا، 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا، سابق آرڈیننس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو درست قرار دیا گیا۔آرڈیننس حکومت اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ مخصوص مقامات، مخصوص دنوں، اور مقررہ وقت اور غیر خطرناک مواد کے ساتھ محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں، مگر غیر خطرناک مواد کی آرڈیننس میں تشریح ہی نہ کی گئی ہے۔پنجاب حکومت کے آرڈیننس میں پولیس کے بے پناہ اختیارات دیے جا رہے ہیں جس کے مطابق سب انسپکٹر رینک کا پولیس افسر بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکے گا اور اُسے کسی بھی مقام پر داخل ہو کر سرچ کرنے کے اختیارات حاصل اور ممنوعہ سامان قبضے میں لے سکے گا۔علاوہ ازیں حکومت ضرورت پڑنے پر کسی بھی ادارے یا ایجنسی کو یہی اختیارات تفویض کر سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔