آئی جی بی ایس ایف کی بریفنگ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کی پردہ پوشی ہے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اشوک یادو نے سرینگر میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بی ایس ایف بھارتی فوج کے ہمراہ وادی کشمیر میں 343 کلومیٹر طویل کنٹرول لائن پر تعینات ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کنٹرول لائن پار نام نہاد عسکریت پسندی اور دراندازی کے بے بنیاد پروپیگنڈے کو آگے بڑھا کر غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی پردہ پوشی کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کشمیر کے انسپکٹر جنرل اشوک یادو نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ کنٹرول لائن پر 69 لانچنگ پیڈز موجود ہیں جن میں تقریبا 100-120 افراد دراندازی کے منتظر ہیں۔ تجزیہ کاروں نے آئی جی بی ایس ایف کے اس دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قابض فورسز کی طرف سے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی تعیناتی، کشمیریوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کیلئے جاری محاصرے اور تلاشی کی پرتشدد کارروائیوں اور املاک کی ضبطگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواز پیش کرنے کیلئے اس طرح کے بے بنیاد دعوے کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔ اشوک یادو نے سرینگر میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ بی ایس ایف بھارتی فوج کے ہمراہ وادی کشمیر میں 343 کلومیٹر طویل کنٹرول لائن پر تعینات ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارتی قابض فورسز کی طرف سے یہ الزامات مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔انسانی حقوق کے مقامی گروپوں کا کہنا ہے کہ بھارتی قابض فورسز کے سربراہ کی عسکریت پسندانہ زبان میں اس طرح کی بریفنگ کا مقصد جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانوین قبضے کو طول دینا، بڑے پیمانے پر جاری کریک ڈائونز اورکالے قوانین کے تحت چھاپوں، کشمیریوں کی گرفتاریوں، املاک پر قبضے اور دیگر مظالم کا جواز پیش کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کنٹرول لائن بی ایس ایف
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔