پنجاب میں ڈرائیورنگ کیلیے عمر کی حد میں کمی کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اب ٹریفک قوانین پر عمل درآمد، کوئی آپشن نہیں بلکہ یہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔
سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبے میں ٹریفک ڈسپلن کو بہتر بنانے کے لیے نئے روڈ سیفٹی میکینزم فعال کیے جا رہے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رہے گی۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ جب تک لوگ خود ذمہ داری نہیں لیں گے، حادثات کم نہیں ہوں گے، ڈراٸیونگ کی عمر 16سال کر دی گٸی ہے تاہم اب ہر خلاف ورزی کا ڈیٹا ریئل ٹائم میں مانیٹر ہو رہا ہے اور مستقبل میں الیکٹرونک چالان سسٹم مزید سخت بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نابالغ بچے گاڑی چلائیں گے تو یہ خودکشی کے مترادف ہے۔ اگر والدین بچوں کو گاڑی دیں گے تو قانون سخت کارروائی کرے گا۔ ایک ایک جان قیمتی ہے، حکومت کسی کو بھی اپنی یا دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
منشیات
سینیئر وزیر نے کہا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف تاریخ کا سخت ترین آپریشن جاری ہے اور یہ صرف حکومتی کارروائی نہیں بلکہ ایک سماجی مشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں تک منشیات کی رسائی روکنے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی سپاٹ چیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔ ڈرگز مافیا کے خلاف جنگ آخری حد تک جائے گی، کوئی رعایت نہیں ہوگی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ڈرگ نیٹ ورکس کی میپنگ مکمل ہو چکی ہے، صوبے بھر میں ڈرونز کے ذریعے خفیہ سپلائی پوائنٹس کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور بہت سے فعال گروہ پہلے ہی بے نقاب ہو چکے ہیں۔ 111 لانگ رینج نیٹ ورکس کی گرفتاری حکومت کے مضبوط عزم کا ثبوت ہے۔
سینیئر وزیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نوجوانوں کو نشے سے محفوظ رکھنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ لیتی ہیں، 32 اضلاع میں قائم ڈرگز سینٹرز کو جدید سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ’’یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، اور حکومت انہیں منشیات کے عذاب سے نکالنے کے لیے ہر حد تک جائے گی۔‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔