پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی کے مثبت نتائج، جان لیوا حادثات میں 70 فیصد سے زائد کمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
علی ساہی: پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی کے بعد حادثات کی شرح میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ گزشتہ سات روز کے دوران جان لیوا حادثات میں 70 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 27 اضلاع میں ایک بھی مہلک حادثہ رپورٹ نہیں ہوا۔
پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے ہیں۔ ریسکیو اور کنٹرول روم کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں جان لیوا ٹریفک حادثات میں 70 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔ شہری علاقوں میں بھی قابلِ ذکر بہتری دیکھی گئی، جہاں مہلک حادثات کی تعداد 7 روز میں کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر شروع کی گئی ٹریفک سیفٹی مہم کے بعد عام حادثات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جو قانون پر عملدرآمد کی افادیت کا واضح ثبوت ہے۔
ایڈیشنل آئی جی ٹریفک وقاص نذیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کیونکہ یہ شہری جانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہر سال پانچ ہزار سے زائد افراد سڑک حادثات میں جان کھو دیتے ہیں، لہٰذا قوانین کی پابندی سے کئی قیمتی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
انہوں نے مزید کہا کہ شہری ٹریفک قوانین کی پاسداری کر کے جاری مہم کو کامیاب بنائیں، تاکہ حادثات میں مزید کمی لائی جا سکے اور محفوظ سفر ممکن ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین پر حادثات میں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔