کراچی ، بیرونِ ملک ڈانس گروپس بھجوانے والے ایجنٹ سرگرم
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
صدر، طارق روڈ اور گلشن اقبال کے متعدد گیسٹ ہاؤسز میں ایجنٹوں نے ڈیرے جمالیے
عدنان مغل اور عمران فوٹو کاپی کی ویزے لگوانے کے نام پر شہریوںسے بھاری رقوم کی وصولی
کراچی میں بیرونِ ملک ڈانس گروپس بھجوانے اور ویزے لگوانے کے نام پر کام کرنے والے گروپس اور ایجنٹ سرگرم ہوگئے ہیں۔ شہر کے مختلف گیسٹ ہاؤسز میں اُن گروپس نے ڈیرے جمالیے ہیں، جہاں سے شہریوں کو بیرونِ ملک بجھوانے کے لیے بھاری رقوم وصول کی جارہی ہیں۔ معلومات کے مطابق ڈانس گروپس کو خلیجی ممالک اور دیگر ریاستوں میں بھیجنے کے لیے سرگرم گروہوں نے حالیہ دنوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں، جبکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے ویزہ ایجنٹوں نے اپنے ریٹس میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی کے علاقے صدر، طارق روڈ اور گلشنِ اقبال کے متعدد گیسٹ ہاؤسز میں ایسے گروپس نے عارضی دفاتر قائم کررکھے ہیں، جہاں سے بیرونِ ملک ویزے لگوانے کے خواہشمند افراد کو آمادہ کیا جاتا ہے۔ اس دوران دو معروف ایجنٹ—عدنان مغل اور عمران فوٹو کاپی—نے ویزا پراسیسنگ کے نام پر وصول کی جانے والی رقم 30 سے 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 سے 60 ہزار روپے کردی ہے۔ایجنٹوں کا دعویٰ ہے کہ وہ دبئی سمیت خلیجی ممالک کے وزٹ اور ورک ویزے ’’گرنٹی‘‘ کے ساتھ لگوا کر دیتے ہیں اور اُن کی ’’رسائی اندر تک‘‘ ہے۔ دونوں ایجنٹس کسی بھی درخواست گزار سے 50 سے 60 ہزار روپے فی ویزہ وصول کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایجنٹ یہ تاثر دیتے ہیں کہ قونصل خانوں میں اُن کی باقاعدہ رابطے اور روابط موجود ہیں، تاہم متعلقہ قونصلیٹ انتظامیہ اس معاملے سے مکمل طور پر لاعلم ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص یا ایجنسی قونصل خانے کا نام استعمال کرکے ویزہ گارنٹی نہیں دے سکتی، اور ایسی سرگرمیوں کا قونصل خانے سے کوئی تعلق نہیں۔شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ ایجنٹس ویزہ لگانے کے نام پر بھاری رقم وصول کررہے ہیں جبکہ ویزہ لگنے یا نہ لگنے کی کوئی تحریری ضمانت موجود نہیں۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ ڈانس ٹروپس اور تفریحی گروپس کی آڑ میں لوگوں کو بیرونِ ملک بھجوانے کا لالچ دیتے ہیں اور اکثر معاملات میں جھوٹے دعوے سامنے آتے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے ایجنٹوں کے خلاف کارروائی اس وقت ممکن ہے جب شہری باقاعدہ شکایت درج کروائیں، کیونکہ بیشتر افراد دھوکے میں آنے کے باوجود سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ایسے گروہوں اور ایجنٹس کی سرگرمیوں میں اضافہ تشویشناک ہے اور متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ کے نام پر
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز