ایف آئی اے نے بیرون ملک جانے والے مسافروں کی آسانی کیلیے امیگریشن سہولت کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے بیرون ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کیلیے خصوصی امیگریشن انفارمیشن آفس قائم کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف آئی اے زونل آفس لاہور میں بیرون ملک جانے والے مسافروں کی سہولت کیلیے خصوصی امیگریشن انفارمیشن آفس قائم کیا گیا ہے جہاں سے شہریوں کو تمام رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
ایف آئی اے کی جانب سے دفتر میں عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے جو بیرون ملک جانے والے مسافروں کو امیگریشن قوانین، سفری تقاضوں اور دستاویزات کی تصدیق سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق معلوماتی آفس عوامی سہولت اور سروس ڈلیوری کو بہتر بنانے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا جبکہ اس کے ذریعے شہریوں اور امیگریشن ڈیسک کے درمیان رابطے بھی بہتر ہوں گے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ خصوصی دفتر قیام کا مقصد سفر سے قبل معلومات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ شہری امیگریشن سے متعلق معلومات کے لیے 04299203690 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیرون ملک جانے والے ایف ا ئی اے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔