وفاقی دارالحکومت میں2 ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
فوج داری ضابطۂ کارروائی (کریمنل پروسیجر کوڈ) کی دفعہ 144 ایک قانونی شق ہے جو ضلعی انتظامیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی مخصوص علاقے میں ایک مقررہ مدت کے لیے چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر سکے۔
نوٹیفکیشن، جو 18 نومبر کی تاریخ کا ہے اور ڈان نیوز کے پاس موجود ہے، کے مطابق یہ حکم اس وجہ سے نافذ کیا گیا کہ “معاشرے کے بعض طبقات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے دائرہ اختیار میں غیر قانونی اجتماعات منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
نوٹیفکیشن میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے غیر قانونی اجتماعات متوقع تھے۔
حکم کے مطابق اسلام آباد ضلع کی ریونیو حدود، بشمول ریڈ زون، میں ہر قسم کے پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع، جلوس، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ “امنِ عامہ، سکون اور قانون و نظم و ضبط کی بحالی کے لیے اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانا ضروری ہے۔”
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور دو ماہ تک نافذ رہے گا، اور یہ حکم 18 جنوری 2026 کو ختم کر دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔