اسلام آبادہائیکورٹ، وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈکی سابق چیئرپرسن کیخلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آبادہائیکورٹ، وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈکی سابق چیئرپرسن کیخلاف مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد WhatsAppFacebookTwitter 0 1 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ہائی کورٹ نے وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کی سابق چیئرپرسن رعنا سعید خان کے خلاف ایف آئی اے میں درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی سابق چیئرپرسن رعنا سعید خان نے ایف آئی اے کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کی۔ درخواست گزار نے بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست مسترد کرنیکی وجوہات پر مبنی تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائیگا ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہی بینچ اس سے قبل رعنا سعید کی جانب سے ایف آئی اے انکوائری رکوانے کی درخواست بھی مسترد کر چکا ہے۔ جسٹس محمد اعظم خان نے 3نومبر 2025کو ایف آئی اے کی انکوائری رکوانے کی درخواست مسترد کی تھی۔رعنا سعید خان نے ایف آئی اے کو ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے آفس اعتراضات برقرار رکھے تھے۔
رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کیا تھا کہ ہراسگی روکنے اور موبائل فون واپس کرنے کی درخواست میں ضمانت دینے اور گرفتاری سے روکنے کی استدعا کیسے کی جاسکتی ہے؟،ایف آئی اے نے باضابطہ انکوائری کے بعد رعنا سعید کے خلاف مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد تا لاہور موٹروے پر جدید ترین موسمیاتی الرٹ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ اسلام آباد تا لاہور موٹروے پر جدید ترین موسمیاتی الرٹ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ حج کے دوران پاکستانی میڈیکل اسٹاف سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ، درخواستیں طلب عوام کے ووٹ سے واپس آئیں گے اور ترامیم کو واپس کرینگے، بیرسٹر گوہر کا اعلان چیئرمین سی ڈی اے سے اے ڈی بی کے وفد کی ملاقات، سموگ کے تدارک و ماحولیاتی تحفظ کیلئے تعاون کو مزید فروغ دینے... بدمعاشی کرینگے تو گورنر راج لگ سکتا ہے،ہماری خواہش ہے فیصل کریم کنڈی ہی گورنر رہیں، فیصل واوڈا گرفتار، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش بارے بل سینیٹ سے منظور
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کی سابق چیئرپرسن اسلام آباد ایف آئی اے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔