خطۂ مشرقِ وسطیٰ، یک طرفہ جنگ بندی، صیہونی جارحیت اور بدلتی علاقائی صف بندیاں
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: علاقائی منظرنامے پر ایک اور اہم پیشرفت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اور پاکستان باہمی طور پر ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ سفارتی تحرکات، خصوصاً ڈاکٹر علی لاریجانی کا دورۂ پاکستان، پاک ایران تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتِحال میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایران اور چین کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ دفاعی اور سرحدی سلامتی کے شعبوں میں بھی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ ایران، خصوصاً پاک ایران سرحد پر دہشتگرد عناصر کی سرکوبی کیلئے پاکستان کیساتھ مشترکہ اقدامات کا خواہاں ہے، جبکہ خطے میں اسلحہ کے توازن اور دفاعی تعاون کے معاملات میں بھی پاکستان کا کردار کلیدی سمجھا جا رہا ہے۔ تحریر: سید انجم رضا
لبنان اور فلسطین میں گذشتہ ایک برس سے اسرائیل کی مسلسل فوجی جارحیت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے ہے۔ نام نہاد امن منصوبوں، بالخصوص مخبوط الحواس امریکی صدر کے پیش کردہ فارمولوں کے باوجود، مظالم کا یہ سلسلہ نہ تھم سکا۔ گذشتہ ایک برس کے دوران اسرائیل کی جانب سے ہزاروں فضائی اور زمینی خلاف ورزیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں ڈیڑھ سو سے زائد لبنانی مسلمان شہید ہوئے۔ اس کے برعکس حزب اللہ نے ایک ذمہ دار قوت کی حیثیت سے معاہدوں کی مکمل پاسداری کو ترجیح دی۔ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی اسرائیل کو میدانِ جنگ میں کسی سیاسی یا عسکری ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو امریکہ سفارتی محاذ پر اسے سہارا دینے کے لیے سرگرم ہو جاتا ہے۔
حالیہ جنگ بندی بھی اسی یک طرفہ رویئے کا تسلسل ہے، جس میں اسرائیل کو عملی طور پر کھلی چھوٹ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ وہ خود اس جنگ کو پھیلانے کے عزائم رکھتا ہے۔ صیہونی حکومت کی توسیع پسندانہ سوچ آج بھی بدستور قائم ہے اور لبنان میں کشیدگی بڑھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا اس کی واضح حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے۔ غزہ میں روا رکھی گئی بربریت نے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ عرب عوام کے دلوں میں بھی اسرائیل کے خلاف شدید نفرت کو جنم دیا ہے۔ اسی پس منظر میں ابراہیم اکارڈ جیسے معاہدے عرب مسلم عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں بن سکتے۔ اگرچہ سعودی عرب دو ریاستی حل کی بات کرتا ہے، تاہم موجودہ زمینی حقائق اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ خطے میں امن صرف نعروں سے نہیں، عملی انصاف سے قائم ہوگا۔
لبنان کے اندر حزب اللہ نے سیاسی میدان میں بھی اپنے قدم مضبوطی سے جما رکھے ہیں۔ گذشتہ ایک سال کے دوران اس کی جانب سے کوئی بھرپور جنگی کارروائی نہ کرنا، اس کے ضبط اور حکمتِ عملی کا ثبوت ہے، جس کے باعث لبنانی عوام میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ صبر، وقتی نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتا ہے۔ علاقائی منظرنامے پر ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایران اور پاکستان باہمی طور پر ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ سفارتی تحرکات، خصوصاً ڈاکٹر علی لاریجانی کا دورۂ پاکستان، پاک ایران تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان نہ صرف ایران اور چین کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ دفاعی اور سرحدی سلامتی کے شعبوں میں بھی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
ایران، خصوصاً پاک ایران سرحد پر دہشت گرد عناصر کی سرکوبی کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ اقدامات کا خواہاں ہے، جبکہ خطے میں اسلحہ کے توازن اور دفاعی تعاون کے معاملات میں بھی پاکستان کا کردار کلیدی سمجھا جا رہا ہے۔ رہبرِ معظم کی جانب سے پاکستان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا پیغام دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور اسٹرٹیجک اعتماد کی واضح علامت ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت، امریکی سرپرستی، لبنانی استقامت اور ایران–پاکستان قربت ایک نئے علاقائی توازن کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران اور پاک ایران کا کردار میں بھی پر ایک کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔