ڈاکٹر علی لاریجانی سے اپنی ایک ملاقات میں تُرک وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ترکیہ کے وزیر خارجہ "حکان فیدان" اس وقت تہران میں موجود ہیں جہاں انہوں نے ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ میں ڈاكٹر "علی لاریجانی" سے ملاقات اور بات چیت کی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقین نے علاقائی سلامتی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ شام و غزہ کے تازہ ترین واقعات اور صیہونی رژیم کا حالیہ تخریبی کردار اس گفتگو کا مرکزی محور تھے۔ دونوں رہنماوں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایران اور ترکیہ کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ ملاقات کے اختتام پر ترکیہ کے وزیر خارجہ نے ڈاکٹر علی لاریجانی کو سرکاری طور پر انقرہ آنے کی دعوت دی۔ یاد رہے کہ قبل ازیں تُرک وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری مسئلہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علی لاریجانی

پڑھیں:

اسرائیلی جارحیت علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے، جولانی رژیم

اپنے ایک جاری بیان میں حمزہ المصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آزادی کے بعد ہم طاقت کی پوزیشن میں نہیں۔ اسلئے اس وقت ہم ملکی ترقی و خوشحالی پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شام پر قابض باغی حکومت کے وزیر خارجہ "اسعد حسن الشیبانی" نے اپنے ڈچ ہم منصب "لارس لوکہ راسموسن" کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر اسعد حسن الشیبانی نے کہا کہ "بیت جن" میں ہونے والی تازہ ترین صیہونی جارحیت علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی اس دراندازی کو شام کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت روکنے کے لئے سخت موقف اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی عوام کے حقوق کی حمایت اور خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک نے بھی اسرائیل کی بار بار ہونے والی جارحیت کی مذمت کی کہ بیت جن جس کا تازہ ترین مظہر ہے۔

دوسری جانب اسی حوالے سے شام پر قابض باغی حکومت کے وزیر اطلاعات "حمزہ المصطفیٰ" نے کہا کہ اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ شام کے خلاف اپنے ناپاک عزائم پورے کر سکتا ہے تو اسے ہمارے بارے میں صحیح اندازہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل متعدد اشتعال انگیز اقدامات کے ذریعے ہماری حکومت کو جنگ میں الجھانا چاہتا ہے، تاہم ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آزادی کے بعد ہم طاقت کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لئے اس وقت ہم ملکی ترقی و خوشحالی پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کبھی بھی پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے، لیکن صیہونی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اسے روکنے کے لیے ہم کوئی بھی حیلہ یا حربہ ترک نہیں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مصری وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، ملاقاتوں کی تفصیلات جاری
  • سید عباس عراقچی سے سعودی ڈپلومیٹ كی ملاقات، تعاون میں وسعت پر غور
  • مصری وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، دونوں مملالک کن شعبہ جات میں ساتھ آگے بڑھنے کا خواہاں ہیں؟
  • ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں، تُرک وزیر خارجہ
  • پاکستانی اور مصری وزرائے خارجہ کی ملاقات، سکیورٹی و دفاعی تعلقات مزید مضبوط کرنے کا اعادہ
  • فلسطینی ریاست کا قیام ایک تاریخی حق ہے، مصر
  • اسرائیلی جارحیت علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے، جولانی رژیم
  • ای سی او: دہشتگردی ترقی میں رکاوٹ، علاقائی رابطوں کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسحاق ڈار
  • ڈاکٹر علی لاریجانی کے اہم دورہ پاکستان کی تفصیلات