کے پی حکومت کا وزیراعلی اور عمران خان کی ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
کے پی حکومت کا وزیراعلی اور عمران خان کی ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 30 November, 2025 سب نیوز
پشاور (آئی پی ایس )خیبرپختون حکومت نے منگل کو وزیراعلی کی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اگر منگل کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو اڈیالہ جیل کے سامنے دھرنا دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ منگل کو تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہائی کورٹ جائیں گے، منگل کو عمران خان کی فیملی کے ساتھ اڈیالہ جیل جائیں گے، عمران خان کی بہنوں سے ملاقات نہ کرائی گئی تو دھرنا اور احتجاج ہوگا، عمران خان کی 4 نومبر سے فیملی کے ساتھ ملاقات نہیں ہورہی صحت سے متعلق تشویش موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے ماضی میں مسلم لیگ رہنما اپنے مجرم قائد سے لندن میں ملاقاتیں کرتے رہے، کابینہ نواز شریف سے لندن میں رہائش کے دوران مشورے کرتے تھے جبکہ حکومت عمران خان کے بیانات و تصویر سے خوفزدہ ہے، عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں ان کے بیانات روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے عوامی نمائندوں کو ووٹ عمران خان کی رہائی کے نام پر ملا، عوام کا واحد سوال یہی ہوتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کب ہوگی؟ وزیر اطلاعات کیپی نے مزید کہا کہ صوبے کو ضم اضلاع کے واجبات اور پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے فنڈز نہیں دیے گئے، تین ہزار ارب روپے این ایف سی، این ایچ پی، آئل گیس ریزرو وغیرہ کی مد میں واجب ہیں ، چار دسمبر کو این ایف سی اجلاس میں صوبہ بھرپور مقدمہ لڑے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران نے اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والے غیر ملکی جہاز کو قبضے میں لے لیا ایران نے اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والے غیر ملکی جہاز کو قبضے میں لے لیا دہشتگردی اور سرحد کی صورتحال کے باعث کے پی میں گورنر راج پر غور کیا جارہا ہے: وزیر مملکت کرم میں خوارج کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ: 4 دہشت گرد ہلاک، دو اہلکار شہید امریکا نے سنگین جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی تصاویر جاری کردیں، ملک بدر کرنے کا بھی اعلان عمران خان کو 4 نومبر سے آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے، عالمی میڈیا سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں: سہیل آفریدی اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ کھیلنے والے آگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں: بلاولCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل کے سامنے عمران خان کی ملاقات نہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔