WE News:
2025-11-30@20:42:50 GMT

جارج ایورسٹ سے ماؤنٹ ایورسٹ تک

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

ہر دور میں ایسے انسان پیدا ہوتے ہیں جن کی محنت، جذبہ اور علم، انسانی تاریخ میں اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ سر جارج ایورسٹ بھی ایسے ہی عظیم انسانوں میں شامل ہیں، جنہوں نے نہ صرف جغرافیہ اور نقشہ سازی کے شعبے میں انقلاب بپا کیا بلکہ برصغیر کی سرزمین کو عالمی نقشے میں نمایاں کیا۔ آج ان کی برسی کے موقع پر ان کی زندگی، خدمات اور میراث کو یاد کرنا چاہیے جو آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔

جارج ایورسٹ 4 جولائی 1790 کو برطانیہ میں پیدا ہوئے۔ اگرچہ ان کے آبائی گھر کا درست مقام مبہم ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ یا تو گرینوچ (Greenwich) میں تھے یا ویلز کے قصبے (Crickhowell) کے قلعے (Gwernvale Manor) میں پیدا ہوئے۔

ان کے والد، ولیم ٹرسٹرم ایورسٹ، ایک معزز وکیل اور جج تھے جبکہ والدہ، لوسیٹا میری ایورسٹ، ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ ایورسٹ خاندان نے ہمیشہ علم و تعلیم کی قدر کی اور یہ ماحول نوجوان ایورسٹ کی شخصیت میں تجسس، لگن اور علمی جذبے کی بنیاد بنا۔

بچپن ہی سے ایورسٹ میں غیر معمولی ذہانت اور تجسس جھلکتا تھا۔ وہ کتابوں اور نقشوں کے ساتھ کھیلتے، زمین اور آسمان کے راز سمجھنے کی کوشش کرتے۔ ابتدائی تعلیم میں ہی انہوں نے ریاضی، فلکیات اور سروے کے بنیادی اصولوں میں دلچسپی ظاہر کی۔

والدین نے ان کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی اور نوجوان ایورسٹ کو علمی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ وہ نہ صرف ریاضی میں ماہر ہوئے بلکہ طبیعیات، جیومیٹری اور جغرافیہ کے علوم میں بھی اپنی مہارت ثبت کرنے لگے۔

ایورسٹ کے علمی سفر کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب وہ رائل ملٹری کالج (Marlow) اور پھر رائل ملٹری اکیڈمی (Woolwich) میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے فوجی انجینئرنگ اور آرٹلری کی تربیت حاصل کی۔

ان کی محنت اور لگن نے انہیں نہ صرف تکنیکی مہارتیں دی بلکہ ان کی شخصیت میں نظم، صبر اور مشکل مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی پروان چڑھی۔ اساتذہ اکثر ان کے حوصلہ افزا اور متجسس رویے کی تعریف کرتے، کہتے کہ وہ کسی بھی پیچیدہ مسئلے کو منظم انداز میں حل کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتے تھے۔

1806 میں ایورسٹ نے ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) میں بطور کیڈٹ شمولیت اختیار کی اور 16 برس کی عمر میں بھارت روانہ ہوئے۔ جلد ہی ان کی ریاضی اور فلکیات میں مہارت کے سبب انہیں جزیرہ جاوا کے نائب گورنر، اسٹیمفورڈ ریفلز (Stamford Raffles) کی زیرِ نگرانی، جزیرہ جاوا کے سروے پر بھیجا گیا۔

 1816 میں بنگال واپس پہنچنے پر گنگا (Ganges River) اور دریائے ہوگلی (Hooghly River) کا مفصل سروے کیا، اسی دوران انہوں نے کولکتہ سے بنارس تک قریباً 400 میل کا سیمفور لائن (Semaphore line) کا سروے کیا۔

گریٹ ٹرائگنومیٹریکل سروے (Great Trigonometrical Survey) کے سربراہ کرنل ولیم لیمبٹن (Colonel William Lambton) ان کے کام سے بیحد متاثر ہوئے اور انہیں اپنا معاون مقرر کرلیا۔

1818 میں ایورسٹ، گریٹ ٹرائگونومیٹریکل سروے آف انڈیا میں شامل ہوئے جو برصغیر کی سب سے مفصل جغرافیائی پیمائش کا منصوبہ تھا۔ اس سروے میں شمالی بھارت سے نیپال تک کا میریدین آرک (Meridian Arc) شامل تھا، جس کی لمبائی قریباً 2400 کلومیٹر تھی۔

میریدین آرک (Meridian Arc) طویل اور محکم جغرافیائی لکیر کی صورت اختیار کرتا تھا، جو زمین کی درست پیمائش کے لیے قائم کی گئی تھی۔ یہ آرک محض نقشے کی لائن نہیں بلکہ علم و تحقیق کا ستون تھا، جس نے زمین کے طول و عرض کی صحیح تفہیم ممکن بنائی۔

ہر پہاڑ، وادی اور دریا اسی میریدین آرک کی بنیاد پر درست جگہ پر نقش ہوئے اور اس نے برصغیر کی جغرافیائی پیچیدگیوں کو عالمی سطح پر واضح کردیا۔ ایورسٹ کے لیے یہ پیمائش کسی کھیل یا مشق کی طرح نہیں تھی، ہر قدم ایک سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھتا تھا جو نہ صرف جغرافیہ دانوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا مینار بن گیا۔

شومئی قسمت کہ 1820 میں ملیریا کے جان لیوا مرض نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، اور زندگی کی نازک راہوں پر قدم جمانے کے لیے انہیں صحتیابی کے مقصد سے جنوبی افریقہ کے مشہور کیپ آف گڈ ہوپ (Cape of Good Hope) تک کا طویل و دشوار سفر کرنا پڑا۔

 1821 میں ہندوستان واپسی پر انہوں نے دوبارہ اپنا کام سنبھالا۔ 1823 میں کرنل ولیم لیمبٹن (Colonel William Lambton) کی وفات کے بعد وہ گریٹ ٹرائگونومیٹریکل سروے آف انڈیا کے سپرنٹنڈنٹ بن گئے۔ وہ اکثر صحت کے مسائل سے دوچار رہتے، لیکن ان کی محنت کا پہیہ کبھی نہیں رکا۔

1825 میں شدید بخار اور رمیٹزم (Rheumatism) کی وجہ سے وہ کچھ وقت کے لیے جزوی طور پر مفلوج ہو گئے اور انگلینڈ لوٹ گئے، اگلے 5 سال اپنی صحت بحال کرنے میں گزارے۔ اس دوران مارچ 1827 میں انہیں رائل سوسائٹی کا فیلو منتخب کیا گیا۔

فارغ اوقات میں وہ ایسٹ انڈیا کمپنی سے بہتر سروے آلات کے لیے سفارشات کرتے رہتے اور آرڈیننس سروے کے پیمائش کے طریقے سیکھتے۔ اس دوران، اکثر تھامس فریڈرک کولبی (Thomas Frederick Colby) سے خطوط کے ذریعے رابطہ رکھتے، انہیں سروے کے نتائج اور مسائل لکھتے۔ کولبی اپنے تجربے اور مشورے بھیجتے۔ کولبی کی رہنمائی سے ایورسٹ نے نہ صرف درست نقشے بنائے بلکہ عالمی معیار کی رپورٹیں بھی تیار کیں۔

آخرکار 1830 میں ایورسٹ دوبارہ ہندوستان آئے اور انہیں سروئیر جنرل آف انڈیا مقرر کیا گیا۔ ان کی بڑی علمی خدمات ان کے نقشے اور پیمائش کے طریقے ہیں۔ انہوں نے سروے کے دوران جدید ترین ریاضیاتی فارمولے استعمال کیے اور ہر پیمائش کو انتہائی درستگی کے ساتھ درج کیا۔

ایورسٹ نے شمالی بھارت، نیپال اور ہمالیہ کے متعدد علاقوں کا سروے کیا۔ انہوں نے اونچائی، فاصلہ اور زمینی خصوصیات کو سائنسی بنیادوں پر درج کیا، جو اُس وقت کے عالمی نقشے کے لیے قیمتی اضافہ تھا۔ انہوں نے دریاؤں، پہاڑوں، وادیوں اور برفانی علاقوں کے بارے میں مفصل رپورٹس تیار کیں، جو بعد میں عالمی سطح پر تحقیقی کاموں کے لیے معیار بن گئیں۔

برصغیر کا مفصل جغرافیائی سروے اور نقشہ بنانے کے دوران کئی چیلنجز سامنے آئے۔ لیکن دشوار گزار پہاڑی راستے، شدید موسم اور خطرناک جنگلی جانور بھی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ ایورسٹ کا کہنا تھا کہ ہر پہاڑ اور وادی کی پیمائش، چاہے کتنی ہی دشوار کیوں نہ ہو، ہمارے علم اور مستقبل کی تحقیق کے لیے ناگزیر ہے۔

ایورسٹ نے شمالی بھارت اور نیپال کے متعدد پہاڑوں کی درست اونچائی ناپی اور انہیں عالمی نقشوں میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دریاؤں، وادیوں اور برفانی علاقوں کی پیمائش کے لیے جدید آلات اور تکنیکیں استعمال کیں، جو اُس وقت کے لیے انقلابی اقدام تھا۔

ان کی خدمات کا اثر صرف جغرافیہ تک محدود نہیں رہا۔ ان کے سروے نے سائنسی تحقیق، نقشہ سازی، اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بنیاد فراہم کی۔ برصغیر کے مختلف خطوں کی درست پیمائش نے حکومتی فیصلوں، تجارتی راستوں، اور فوجی حکمت عملی کے لیے اہم معلومات فراہم کیں۔

1843 میں ریٹائر ہو کر انگلینڈ واپس چلے گئے۔ 11 نومبر1846  کو لندن میں ایورسٹ کی شادی ایماوِنگ سے ہوئی اور ان کے 6 بچے ہوئے۔ 1847 میں انہوں نے اپنے کام پر مبنی کتاب (An Account of the Measurement of Two Sections of the Meridional Arc of India) شائع کی، جس کے لیے انہیں رائل ایسٹرانومیکل سوسائٹی کا تمغہ (Medal of the Royal Astronomical Society) بھی ملا۔

ایورسٹ کے سائنسی کام اور نقشہ سازی نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے جغرافیہ دانوں کو متاثر کیا۔ ان کے کام نے تحقیق، تجارت، فوجی منصوبہ بندی اور سیاسی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کیں۔

ایورسٹ کو 1854 میں کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی، فروری 1861 میں انہیں کمانڈر آف دی آرڈر آف دی بیتھ (Commander of the Order of the Bath) بنایا گیا، اور مارچ 1861 میں انہیں نائٹ بیچلر (Knight Bachelor) یعنی ’سر‘ کا خطاب دیا گیا۔

سر جارج ایورسٹ نے اپنی زندگی میں کئی سائنسی اور معاشرتی خدمات انجام دیں، جن میں رائل ایشیائی سوسائٹی اور رائل جغرافیائی سوسائٹی کی رکنیت بھی شامل ہے۔ ایورسٹ کی ذاتی زندگی بھی ان کے علمی کردار کی طرح اصول پرست اور محنتی تھی۔ وہ عاجز، منظم اور اخلاقی اقدار کے پابند تھے، ہمیشہ علم و خدمت کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھتے تھے۔

سر جارج ایورسٹ یکم دسمبر 1866 کو اپنے گھر ہائیڈ پارک گارڈنز میں انتقال کر گئے، اور انہیں سینٹ اینڈریو چرچ، ہاؤ (برائٹن کے قریب) میں دفن کیا گیا۔

سر جارج ایورسٹ کی سب سے بڑی اور معروف میراث دنیا کی بلند ترین چوٹی، ماؤنٹ ایورسٹ ہے۔ اگرچہ وہ خود کبھی اس پہاڑ پر نہیں گئے لیکن اس چوٹی کو دنیا کے نقشے میں متعارف کرانے کا سہرا ان کے علمی کام اور پیمائش کی مہارت کے سر جاتا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سر جارج ایورسٹ نے کبھی اس بلند ترین پہاڑ کو نہیں دیکھا۔ اصل میں اس چوٹی کو ابتدا میں پیک بی (Peak B) یا پیک 15 (Peak XV) کہا جاتا تھا۔ ان کے شاگرد اور جانشین اینڈریو اسکاٹ وا (Andrew Scott Waugh) نے 1856 میں رائل جیوگرافیکل سوسائٹی (Royal Geographical Society) کو خط لکھا اور تجویز دی کہ چونکہ اس پہاڑ کے لیے کوئی مستند مقامی نام نہیں ملا، اسے ہمارے پیشرو اور استاد سر جارج ایورسٹ کے نام سے موسوم کیا جائے۔

سر جارج ایورسٹ نے ابتدا میں اس اعزاز پر اعتراض کیا، کیونکہ وہ اس بلند ترین چوٹی کی دریافت میں شامل نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان کا نام ہندی میں لکھنا یا مقامی زبان میں تلفظ کرنا مشکل ہوگا۔

تاہم سروئیر جنرل آف انڈیا ’اینڈریو اسکاٹ وا‘ کی تجویز کو قبول کیا گیا اور 1865 میں رائل جیوگرافیکل سوسائٹی (Royal Geographical Society) نے سرکاری طور پر اس پہاڑ کا نام (Mount Everest) رکھ دیا۔

ماؤنٹ ایورسٹ نہ صرف دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے بلکہ سر جارج ایورسٹ کی محنت، لگن اور علمی عظمت کی زندہ یادگار بھی ہے۔ ہر وہ شخص جو اس چوٹی کو چھوتا ہے، دراصل سر جارج ایورسٹ کے علم اور محنت کی قدر کو تسلیم کرتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

George Everest Mount Everest Royal Geographical Society sir george everest انگلینڈ بھارت سر جارج ایورسٹ مشکورعلی.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انگلینڈ بھارت سر جارج ایورسٹ مشکورعلی سر جارج ایورسٹ ماؤنٹ ایورسٹ میں ایورسٹ پیمائش کے ایورسٹ نے ایورسٹ کی ایورسٹ کے اور انہیں انہوں نے سروے کے کی محنت کیا گیا کے علم اور ان کے لیے

پڑھیں:

ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم

 

لاہور(نیوزڈیسک)سابق مقبول فلمی اداکارہ نشو بیگم نے انکشاف کیا ہے کہ اداکار ریمبو سے شادی نہ کروانے پر بیٹی صاحبہ نے انہیں خود کشی کی دھمکی دی تھی۔

نشو بیگم نے حال ہی میں ’ انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔

اداکارہ نے بتایا کہ ان کے والدین مذہبی خیالات کےتھے، انہوں نے انتہائی کم عمری میں مقدس کتاب قرآن پاک کی تعلیم مکمل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والدین نہیں چاہتے تھے کہ وہ فلم انڈسٹری میں آئے لیکن انہیں دوران تعلیم ہی شوبز میں آنے کا شوق ہوا تھا اور میٹرک کرنے تک انہوں نے اداکاری کا آغاز کردیا تھا۔

نشو بیگم کے مطابق اداکاری شروع کرنے پر والدہ نے ان کی خوب پٹائی کی تھی، انہیں آج بھی والدہ کی مار یاد ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ اتنی خوبصورت تھیں کہ نویں جماعت میں پڑھنے کے دوران وہ برقع پہن کر اسکول جاتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ والدہ انہیں کہتی تھیں کہ وہ اتنی خوبصورت ہیں کہ وہ جھگڑے کروائیں گی، اس لیے وہ برقع پہن کر اسکول جاتی تھیں۔

بیٹی صاحبہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی بہت بڑی بلیک میلر ہے، انہوں نے انہیں کافی بلیک میل کیا۔

نشو بیگم کے مطابق وہ صاحبہ اور ریمبو کے عشق کے خلاف تھیں لیکن وہ ان کی شادی کے خلاف نہیں تھیں، وہ چاہتی تھیں کہ بیٹی پہلے کسی مقام پر پہنچے، پھر شادی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ صاحبہ کی فرمائش پر ہی انہوں نے انہیں فلموں میں جلد کام کرنے کی اجازت دی لیکن انہوں نے کچھ فلموں کے بعد ہی ریمبو سے عشق کرلیا اور شادی کے مطالبے کرنے لگیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ صاحبہ اور ریمبو کی شادی نہیں بلکہ عشق کے خلاف تھیں، ان سمیت کوئی بھی ماں نہیں چاہے گی کہ ان کی بیٹی عشق کرے۔

اداکارہ کے مطابق بیٹی صاحبہ نے ریمبو سے شادی نہ کروانے پر انہیں دھمکی دی کہ وہ خودکشی کرلیں گی یا صبح انہیں گھر میں لاش ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ماہ گزر چکا ہے کسی کو بھی بشریٰ بی بی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، مریم وٹو
  • ’دھوپ کنارے‘ کی کامیابی کے بعد آدھا چہرہ مفلوج ہوگیا تھا، مرینہ خان
  • ڈھاکا: سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی حالت نازک، آئی سی یو میں زیر علاج
  • پیسوں کےلیے ناچنے پر مجبور کیا گیا، مشہور بھارتی اداکارہ کا انکشاف
  • جیا بھٹاچاریہ کا شوبز کی ابتدائی زندگی کے بارے میں انکشاف
  • سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید ناساز، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی دعا کی اپیل
  • شہزادہ چارلس کے بچپن میں کاٹے گئے بال نیلامی کے لیے پیش، نائی نے قیمت کتنی لگائی؟
  • بھارت نے پاکستانی ڈرامے بلاک کردیے
  • ریمبو سے شادی نہ کروانے پر صاحبہ نے خودکشی کی دھمکی دی تھی، نشو بیگم