جنرل ساحر شمشاد سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات کی۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فریقین نے عالمی، خطے کی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا اور مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا نے علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں پاک سعودی دیرینہ اور اسٹریٹجک فوجی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، دفاعی تعاون، سیکیورٹی اشتراک اور انسدادِ دہشت گردی کےاقدامات کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی تعریف کی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کی قربانیوں کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی پاکستان سعودی عرب اسٹریٹیجک تعلقات مضبوط کرنے میں خدمات کو سراہا۔
اس سے قبل جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر تینوں مسلح افواج کے دستے نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مسلح افواج ایس پی
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔