افغان ائیرلائن کی غلط لینڈنگ، دہلی ایئرپورٹ بڑی تباہی سے بچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
دہلی ائیرپورٹ پر ایک افغان ائیرلائن کا طیارہ لینڈنگ کے دوران غلط رن وے پر اُتر گیا، مگر خوش قسمتی سے کسی بڑے حادثے سے بچ گیا۔ یہ واقعہ ایئر سیفٹی کے نقطہ نظر سے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ طیارہ عام طور پر ٹیک آف کے لیے استعمال ہونے والی رن وے پر اتر گیا تھا، اور اگر اس وقت کوئی اور جہاز ٹیک آف کر رہا ہوتا تو تباہی ٹلنا مشکل ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ’تیجاس‘ کی نئی تصاویر، طیارے کی تباہی کی وجہ سامنے آگئی
بھارتی میڈیا کے مطابق افغان ائیرلائن کی فلائٹ FG‑311 ایک ایئر بس A310 طیارہ تھا، جسے ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) نے 29 L رن وے پر لینڈ کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن پائلٹ نے غلطی سے 29 R رن وے پر لینڈ کر دیا۔
پائلٹ نے بتایا کہ لینڈنگ کے دوران آئی ایل ایس (Instrument Landing System) سگنل کھو گیا اور کم دیکھائی دینے کی وجہ سے جہاز نے بصری لینڈنگ کرتے ہوئے دائیں رخ اختیار کر لیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ پائلٹ کی غلطی، کم دکھائی یا دیگر تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر رن وے پر لینڈنگ ہوئی۔
واقعے کے باوجود کسی ٹیک آف یا لینڈنگ کے دوران تصادم کا واقعہ پیش نہیں آیا، جس سے بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آریانا آیئرلائن ایئرپورٹ دہلی ایئرپورٹ غلط لینڈنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ریانا ا یئرلائن ایئرپورٹ دہلی ایئرپورٹ غلط لینڈنگ رن وے پر
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔