صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ معصوم بچے کے افسوسناک واقعہ پر بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی جواب دیں کہ آخر معصوموں کی جانوں کا محافظ کون ہے؟ کراچی کا مینڈیٹ چرایا گیا، جماعت اسلامی کو بھی ہماری نشستیں دی گئیں ہم عوام کی طاقت سے دوبارہ اپنا چھینا گیا مینڈیٹ واپس لیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی پریس کلب میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسرور سیال، پی ایس 09 شکارپور، پر پی ٹی آئی امیدوار آغا امتیاز، آغا رسلان، ایم پی اے ریحان بندوکڈا، محمد علی بلوچ معظم خان، فاروق کورائی، باثرعلی خان سمیت  دیگر رہنمائوں کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات گلشن اقبال میں تین سالہ معصوم بچہ ابراھیم کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا، والدین شاپنگ کے لیے نکلے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی نااہلی کی وجہ سے کھلے گٹروں نے ایک اور خاندان کی زندگی اجاڑ دی۔ 

انہوں نے کہا پندرہ گھنٹے تک متاثرین علاقوں مکینوں کی مدد کے تحت تلاش کے بعد بچے کی لاش نکالی گئی، سندھ حکومت کو 18 سالوں میں تیس ہزار ارب روپے ملے لیکن کراچی شہر میں گٹروں کے ڈھکن تک نہیں ہیں، میئر پیپلز پارٹی کا ہے، صوبائی حکومت پیپلز پارٹی کی ہے، انہیں ذمہ داری سے بھاگنے نہیں دیں گے، اس نااہلی پر ابراہیم کے قتل کا مقدمہ لیکر عدالت جائیں گے۔ انہوں ںے کہا اربوں روپے ٹیکس دینے والا یہ شہر کراچی بنیادی سہولیات سے محروم ہونے نہیں دیں گے، معصوم بچے کے افسوسناک واقعہ پر بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی جواب دیں کہ آخر معصوموں کی جانوں کا محافظ کون ہے؟ کراچی کا مینڈیٹ چرایا گیا، جماعت اسلامی کو بھی ہماری نشستیں دی گئیں ہم عوام کی طاقت سے دوبارہ اپنا چھینا گیا مینڈیٹ واپس لیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پی ٹی آئی

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے