سندھ حکومت، ڈپٹی میئر نے نیپا واقعے کی رپورٹ طلب کرلی
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید اور ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے کہا ہے کہ نیپا واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا۔
سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ جس کی بھی غفلت ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو1122 اور واٹر کارپوریشن کا عملہ موقع پر موجود ہے، بچے کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے نیپا واقعے کے بعد تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور بچے کو جلد از جلد تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی حکام سمیت واٹر کارپوریشن اور سندھ سالٹ ویسٹ کا عملہ بھی موقع پر موجود ہے۔
واضح رہے کہ 3 سال کا ابراہیم ولد نبیل نیپا شورنگی پر واقعے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آئی فیملی کے ساتھ آیا تھا کہ وہاں موجود کھلے ہوئے مین ہول میں گر گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔