وفاقی ترقیاتی ادارے میں تقرر و تبادلے،متعدد افسران کو اضافی چارج مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
وفاقی ترقیاتی ادارے میں تقرر و تبادلے،متعدد افسران کو اضافی چارج مل گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے )میں تقرر و تبادلے،متعدد افسران کو اضافی چارج مل گئے،گریڈ 18کے آفیسر جاوید اختر زہری کو ڈائریکٹر سیوریج اینڈ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کا اضافی چارج دیدیا گیا۔اسی طرح گریڈ 18کے آفیسر جوہر علی کو ڈائریکٹر واٹر سپلائی کا اضافی چارج،گریڈ 17کے زاہد اقبال کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروڈیکشن ڈویژن سے ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر ڈسٹریبیوشن تبادلہ کردیا گیا۔اسی طرح گریڈ 17کے آفیسر مجاہد حسین کو ڈپٹی ڈائریکٹر بلک واٹر منیجمنٹ سیل کا اضافی چارج دیدیا گیا۔گریڈ 17کے ڈپٹی ڈائریکٹر خان پور ڈویژن کو ڈپٹی ڈائریکٹر سمبلی ڈیم کا اضافی چارج دیا گیا ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعوام کے لیے خوشی کی خبر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی پاکستان کی فرنس آئل کی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، اضافے کا امکان نومبر میں نیلا آسمان نظر آنا کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے: مریم اورنگزیب تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور سری لنکا میں سیلابی صورتحال، ہلاکتوں کی تعداد 256 ہوگئی اڈیالہ جیل کو پارٹی ہیڈکوارٹر بنانا غیرقانونی سمجھا گیا: پرویز رشید عمران خان صحتمند ہیں، اڈیالہ جیل آنے والے ہر شخص کی ان سے ملاقات کروائی جاتی ہے: جیل ذرائعCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اضافی چارج
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘