بجلی کے محکموں کے ملازمین کو ماہانہ 300 سے 1300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کیے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک بھر کے بجلی کے محکموں کے ملازمین کو ہر ماہ 300 سے 1300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان اداروں میں ڈسکوز، جینکوز، این ٹی ڈی سی، پی آئی ٹی سی اور واپڈا کے ملازمین شامل ہیں جنہیں مفت بجلی کی فراہمی کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔
گزشتہ روز سینیٹ کو بتایا گیا کہ ہر گریڈ کے ملازمین کو کتنی بجلی مفت دی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ مفت بجلی آئیسکو میں فراہم کی جا رہی ہے، جہاں ماہانہ 2 لاکھ 56 ہزار 500 یونٹ ملازمین کو دیے جاتے ہیں۔ گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین کو 300 یونٹ، گریڈ 5 سے 10 تک 600 یونٹ، گریڈ 11 سے 15 تک 600 یونٹ اور گریڈ 16 کو بھی 600 یونٹ ماہانہ مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
اسی طرح گریڈ 17 کے ملازمین کو 650 یونٹ، گریڈ 18 کو 700 یونٹ، گریڈ 19 کو 1000 یونٹ، گریڈ 20 کو 1100 یونٹ جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے افسران کو 1300 یونٹ مفت بجلی دی جاتی ہے۔
سینیٹ کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 13 کمپنیوں کو مجموعی طور پر ماہانہ 3 لاکھ 18 ہزار 445 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مفت بجلی فراہم کی کے ملازمین کو جاتی ہے
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔