وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دفتر خزانہ (ایف ٹی او) اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق غیر قانونی طریقے سے ایف ٹی او سے اسٹامپ پیپرز جاری کروا کر اسٹامپ پیپر فیس ،کورٹ فیس اور فارن بلز خزانے میں جمع نہ کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے میگا کرپشن اسکینڈل سامنے آنے پر ایف ٹی او میں تعینات سینئر آڈیٹر عادل مقبول سمیت71افسران و اہلکاروں سمیت اسٹامپ واینڈرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔
یہ مقدمہ دفعات 109، 409، 420، 467، 471 پی پی سی اور 5(2)47 پی سی اے 1947 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل افضل خان نیازی کی سربراہی میں رات گئے ملزمان کی گرفتاریوں کےلیے کریک ڈاؤن کیا گیا اور اس دوران 20 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جب کہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے متعدد افسران و اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے ایف ٹی او آفس اسلام آباد سے جعلی/بوگس لائسنس جمع کرا کے اسٹامپ پیپرز حاصل کیے۔ جعلی لائسنسوں پر 2,638 بوگس TR-32 چلان جاری کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو 29 کروڑ 64 لاکھ 98 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق ایف ٹی او کے 71 افسران و اہلکاروں و اسٹامپ وینڈرز کے خلاف مقدمہ تھانہ آبپارہ کے مقدمہ نمبر 527/2025 کی ریکارڈ وصولی پر انکوائری نمبر 368/2025مکمل ہونے پر درج کیاگیا ہے۔ انکوائری مکمل ہونے و ثبوت سامنے آنے پر مقدمہ اندراج کی منظوری ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون شہزاد ندیم بخاری نے دی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق 10 سالہ فرانزک آڈٹ کے بعد اصل نقصان کا تعین کیا جائے گا۔
اے ڈی سی آر امتیاز جنجوعہ،سپرنٹنڈنٹ محمد ارشد سمیت ایف ٹی او اور ڈی آر اے برانچ کے دیگر افسران کے کردار کا تعین تفتیش میں ہوگا ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد افضل خان نیازی کی نگرانی میں ایس ایچ او شمس خان گوندل و ٹیم تفتیش میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ایف آئی اے ایف ٹی او کے مطابق
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔