تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ہنگامی اجلاس، کے پی میں گورنر راج کی صورت میں مزاحمت کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آئین کی بالادستی اور جمہوری روایات کے تحفظ کے لیے ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی اور حکومت سے مذاکرات کی سنجیدگی، عدالتی احکامات پر فوری عمل، اور عمران خان کے زیرِ التوا مقدمات کی میرٹ پر فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔
اجلاس کی صدارت محمود خان اچکزئی نے کی جبکہ علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کی منتظر بہنوں پر پولیس اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تشدد کی شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیہ اور مطالبات
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت مذاکرات کی سنجیدگی ظاہر کرے، ملاقاتوں کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور عدالتی احکامات پر فوری عمل کیا جائے۔ اجلاس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان کے زیرِ التواء مقدمات کی میرٹ پر فوری سماعت کی جائے۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے غیر آئینی بیانات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ غیر آئینی اقدام کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔
قومی مشاورتی کانفرنس کا اعلان
تحریک نے اعلان کیا کہ 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں ’قومی مشاورتی کانفرنس‘ منعقد کی جائے گی، جس میں اپوزیشن جماعتیں، بار کونسلز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ کانفرنس کے لیے مصطفیٰ نواز کھوکھر، حسین احمد یوسفزئی اور خالد یوسف چوہدری پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
پاک افغان تعلقات
اجلاس میں پاکستان اور افغانستان سرحدی تجارت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا اور دونوں ممالک پر زور دیا گیا کہ تنازعات کو سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اجلاس کے اختتام پر آئین کی بالادستی اور جمہوری روایات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پر فوری
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔