کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے، بگٹی کی التوا کی درخواست مسترد WhatsAppFacebookTwitter 0 10 December, 2025 سب نیوز

کوئٹہ: (آئی پی ایس) الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی کوئٹہ میں بلدیاتی الیکشن کے التوا کی درخواست مسترد کر دی۔
الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی الیکشن التوا کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخاب شیڈول کے مطابق ہو گا، بلدیاتی انتخابات کیلئے پولنگ 28 دسمبر کو ہو گی۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان حکومت آئین کے مطابق الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کی معاونت کرے، تمام اداروں کی ہر ممکنہ معاونت کی جائے جنہیں کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری سونپی گئی۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے لیے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں، ووٹرز، امیدواروں، عوام اور پولنگ عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، کوئٹہ ڈسٹرکٹ میں بلا تعطل پُرامن پولنگ کو یقینی بنایا جائے۔
ممبر الیکشن کمیشن بلوچستان شاہ محمد نے اختلافی نوٹ لکھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں سخت سردی کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہو گا، کوئٹہ میں لوگ سخت سردی کے باعث دوسرے اضلاع میں ہجرت کر جاتے ہیں۔
شاہ محمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات انعقاد کیلئے سازگار نہیں ہے، کوئٹہ کے الیکشن امن و امان اور موسم کی صورتحال نارمل ہونے تک ملتوی کئے جائیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ٹیرف میرا پسندیدہ لفظ ہے اس سے ملک میں اربوں ڈالر آ رہے ہیں، صدر ٹرمپ اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ عرفان صدیقی کے بیٹے عمران خاور صدیقی ایڈوائزر وزیراعلیٰ پنجاب مقرر خاکروب کی آسامیوں کے اشتہار میں ’’صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بجلی کی قیمتوں میں ایک ماہ کیلئے 88پیسے فی یونٹ کمی، نیپرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کوئٹہ میں بلدیاتی بلدیاتی انتخابات التوا کی درخواست کے مطابق

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن