اسحاق ڈار کی کرغز صدر سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف سے ملاقات کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے کرغز صدر صادرژاپاروف اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاک- کرغز تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا گیا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 called on the President of the Kyrgyz Republic, Sadyr Zhaparov.
Welcoming President Zhaparov and his delegation to Pakistan, the DPM/FM conveyed warm greetings of President Asif Ali Zardari and Prime… pic.twitter.com/oYehI6doEc
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) December 4, 2025
اس موقع پر علاقائی تعاون، معاشی روابط اور مستقبل کی شراکت داری سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کرغز صدر کو آئندہ مصروفیات اور کاروباری برادری سے ملاقاتوں سمیت دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے ہونے والی بات چیت سے بھی آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں کرغز وزیرِ خارجہ زینبیک کولو بایف کا استقبال بھی کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں پر اہم مشاورت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔