data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی تنازعات امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاک  بھارت جنگ تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔

وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دنیا بھر میں جاری کشیدگی کو عالمی امن کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف خطوں میں بھڑکتے تنازعات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں معمولی کوتاہی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی طاقتوں کو فوری طور پر سفارتی راستوں کا انتخاب کرنا ہوگا، ورنہ حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

اپنے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے خطے کی صورتحال خصوصاً پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں برس مئی میں سامنے آنے والی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس تنازع کو بروقت سنبھالا نہ جاتا تو صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی تھی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کشیدگی کسی ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو متاثر کرتی ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی موجودہ دور کا ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں اور بار بار آنے والے سیلاب معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک موسمیاتی نقصانات کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں، جس کے باعث معیشت پر دباؤ بڑھتا ہے اور سماجی مسائل مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے عالمی معاشی منظرنامے میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اقتصادی عدم استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ایسے حالات میں ممالک کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عالمی برادری کو اس انسانی المیے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کے تنازعات  کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام پر مبنی مکالمے کی حمایت کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا کو اس وقت غربت، ناخواندگی، موسمیاتی خطرات اور ناگہانی آفات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے خطے کے ممالک کو باہمی تعاون اور امن کے فروغ کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری