جسٹس کے کے آغا کی فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو وائرل، حقیقت کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک سرکاری عہدے دار کو عوامی مقام پر اسلحہ لہراتے اور فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو جسٹس کے کے آغا کی ہے۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں میں سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ محمد فیصل نامی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج کےکےآغا ہیں جو عوام میں اسلحہ لہراتے ہوئے فائرنگ کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کتنا بے قانون ملک ہوگا جہاں جج کھلےعام غیر قانونی حرکات کرتے ہیں۔
This is the Federal Constitutional Court judge, Mr.
— Muhammed Faisal (@Intl_Mediatior) December 2, 2025
عمران نامی صارف نے کہا کہ یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج جناب کے کے آغا ہیں جو کھلے عام فائرنگ کر رہے ہیں اور دوسری طرف کل پنجاب میں 3 ہزار بچوں پر ہیلمٹ نہ پہننے پر پرچے دے کر بند کیا گیا ہے۔
خواتین و حشرات
یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج، جناب کے کے آغا ہیں، جو کھلے عام فائرنگ کر رہے ہیں۔
سرزمین بے آئین و قانون
کل پنجاب میں تین ہزار بچوں پر ہیلمٹ نہ پہننے پر پرچے دیکر بند کیا گیا ہے pic.twitter.com/rsKYqCkxV6
— ???????????????????? ???????????????????????? (@Lalika79) December 2, 2025
کئی صارفین کے مطابق ویڈیو میں موجود شخص کوئی جج نہیں بلکہ ایک وکیل ہیں۔ سوشل میڈیا صارف شاہد حسین نے نشاندہی کی کہ کچھ افراد اس ویڈیو کو غلط طور پر جسٹس کے کے آغا سے منسوب کرکے پھیلا رہے ہیں، حالانکہ یہ ویڈیو ایک وکیل ہے جو 29 نومبر کو سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں کامیابی کی خوشی میں فائرنگ کر رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا جسٹس کے کے آغا سے کوئی تعلق نہیں۔
کچھ لوگ اس ویڈیو کو جسٹس کے کے آغا سے منسوب کرکے سوشل میڈیا ہر وائرل کررہے ہیں حالانکہ یہ ویڈیو 29 نومبر کو ہونے والے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات جینے کی خوشی ایک وکیل صاحب ہیں جو سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں اس دن فائرنگ کررہے تھے
ویڈیو میں فائرنگ کرنے والے… pic.twitter.com/CirqUk7pLd
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) December 2, 2025
چند صارفین کا کہنا تھا کہ اگر یہ جسٹس کے کے نہیں ہیں تو ویڈیو میں ’کے کے‘ کے نعرے کیوں لگائے جا رہے ہیں اور چند صارفین نے کہا کہ اگر ویڈیو میں موجود فرد واقعی سرکاری عہدہ رکھتا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فائرنگ کے کے آغا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فائرنگ کے کے ا غا جسٹس کے کے آغا سندھ ہائیکورٹ فائرنگ کر ویڈیو میں یہ ویڈیو رہے ہیں
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔